خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 347

خطبات محمود ۳۴ سال ۱۹۳۴ء جماعت کو ذلیل کرنے کی کوشش کر کے حکومت کے نمائندوں نے ایک نہایت گندی مثال قائم کی ہے۔ایک فساد کا دروازہ کھول دیا ہے۔اگر حکومت ہی جھوٹ پر اتر آئے تو دوسرے لوگ جو اخلاق میں کمزور ہیں ، کیوں اس گند میں مبتلاء نہ ہوں گے۔پس ان افسروں نے حکومت کی وقعت کو کم کر دیا ہے، اس کے نام پر دھبہ لگایا ہے اور اس کے اعتبار کو صدمہ پہنچایا ہے۔بھلا بتاؤ کل کو کانگرس والوں کے خلاف حکومت نے اعلان کیا تو ہماری جماعت جو پہلے اس کے اعلانوں کو فوراً تسلیم کر لیا کرتی تھی اب کس نظر سے دیکھے گی۔اب کیا ہماری جماعت کے لوگ ایسے اعلانوں کو دیکھ کر بے اختیار نہ کہہ اٹھا کریں گے کہ یہ بھی نیزوں جیسی خبر ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسوسی ایٹڈ پریس کی خبر گورنمنٹ کے کسی افسر کی طرف منسوب نہیں لیکن جبکہ مقامی اور بیرونی حکام سے ہم نے اس خبر کو اسی رنگ میں سنا ہے اور جبکہ گورنمنٹ اس کی تردید بھی نہیں کی، ہم مجبور ہیں کہ اس خبر کو گورنمنٹ کے حلقوں سے نکلی ہوئی سمجھیں لیکن میں حکومت کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر اس خبر میں صداقت ہے تو وہ ان آدمیوں کے نام شائع کرے جن کے پاس سے نیزے نکلے ہیں اور ان نیزوں کی تعداد شائع کرے اور پھر ہمیں اجازت دے کہ اس خبر کے شائع کرنے والے کے خلاف ہم عدالتی چارہ جوئی کریں۔اگر اس کے نتیجہ میں حکومت کے نمائندوں کو فتح ہو گئی تو ہمارا جھوٹ ثابت ہو جائے گا ورنہ حکومت کو معلوم ہو جائے گا کہ اس کے بعض گل پُرزے اس وقت نہایت خراب اور گندے ہو گئے ہیں اور اسے پرانی مشینری کی طرح کامل صفائی اور مرمت کی ضرورت ہے۔اگر حکومت نے اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا تو وہ یاد رکھے کہ آئندہ اس کی بات پر اعتبار کرنا لوگوں کیلئے مشکل ہو گا اور جوں جوں یہ بات لوگوں میں پھیلے گی وہ حیران ہوں گے کہ حکومت نے اپنے افسروں سے اس قدر بڑا جھوٹ دیکھ کر کیونکر خاموشی اختیار کی جبکہ اس کے برخلاف اگر حکومت سچ کی تائید کرے تو اس کی بدنامی نہیں بلکہ نیک نامی ہوگی اور ذلت نہیں بلکہ عزت ہوگی اور اس کی باتوں کا اعتبار پھر سے قائم ہو جائے گا۔دسواں واقعہ پھر یہ عجیب بات ہے کہ ہم جو گورنمنٹ کی ہمیشہ سے اطاعت اور فرمانبرداری کرتے چلے آئے ہیں، ہمارے متعلق گورنمنٹ کے عجیب و غریب خیالات ہیں۔گورنمنٹ پنجاب کے ایک ذمہ دار سیکرٹری نے سلسلہ کے ایک سیکرٹری سے کہا کہ آپ لوگ پیرالل گورنمنٹ (PARALLEL GOVERNMENT) یعنی متوازی حکومت قائم کر رہے