خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 342

خطبات محمود سال کها دونوں ایک دوسرے سے مخالف سمت پر اور کافی فاصلہ پر ہیں اور ایک جگہ کی آواز دوسری جگہ تک نہیں پہنچ سکتی اور نہ ایک مسجد میں داخل ہونے والے دوسری مسجد میں داخل ہونے والوں کو دیکھ سکتے ہیں یہ دونوں مسجدیں اس وقت غیر احمدیوں کے قبضہ میں ہیں۔جہاں تک مجھے یاد ہے بعض اوقات خوجوں والی مسجد میں بھی جمعہ ہوتا رہا ہے مگر اب کچھ عرصہ سے غالباً وہاں جمعہ نہیں ہوتا تھا۔جن لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جمعہ الگ پڑھا جائے ان کے متعلق احرار یہ کب برداشت کر سکتے تھے کہ وہ ان سے علیحدہ ہو جائیں اس پر فوراً حکام کو تار دی گئی که احمدی ہماری مسجد پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور مقامی پولیس نے بھی مجسٹریٹ علاقہ کو تار دی احمدی مسجد پر فساد کر رہے ہیں۔مجسٹریٹ صاحب قادیان آئے اور آتے ہی جمعہ پڑھنے والوں کو سختی سے روک دیا کہ وہ انہیں اس مسجد میں جمعہ نہیں پڑھنے دیں گے۔اب دیکھو کہ کس قدر دروغ بیانی سے اس واقعہ میں کام لیا گیا ہے نہ کسی احمدی نے حملہ کیا نہ احمدیوں نے مسجد سے کسی کو روکا اور نہ جمعہ پڑھنے والے احمدی تھے مگر تار یہ دی گئی کہ احمدی فساد کرنے لگے ہیں حالانکہ اس موقع پر صرف دو احمدی تھے ایک نمبر دار جس کی نسبت خود ہیڈ کانسٹیبل نے تسلیم کیا کہ وہ اسے خود مدد کیلئے لے گیا تھا اور دوسرا میونسپل کمیٹی کا کلرک جسے ہیڈ کانسٹیبل تسلیم کرتا ہے کہ وہ خالی کھڑا تھا اور یہ کہ اس نے تار لکھوانے میں اس سے مدد لی اس واقعہ کا نام احمدیوں کا فساد رکھ دیا گیا۔ہمارے جو آدمی اس موقع پر تھے ان کا بیان ہے کہ اس موقع پر مجسٹریٹ صاحب نے ہیڈ کانسٹیبل سے پوچھا کہ کون کون احمدی وہاں تھے اور اس نے اوپر بیان شدہ دو آدمیوں کا ہی نام لیا اور تسلیم کیا کہ ان میں سے نمبردار وہاں پہلے موجود نہ تھا ہیڈ کانسٹیبل اسے خود ساتھ لے گیا تھا۔پس پولیس کے آنے سے پہلے صرف میونسپل کمیٹی کے کلرک کا وہاں ہونا ثابت ہوا۔اب اس ایک شخص کا وہاں اتفاقا کھڑا ہونا احمدیوں کا فساد بن گیا گویا اس ایک شخص میں فوجوں کی طاقت جمع تھی کہ اسے احرار کا سر کچلنے کیلئے احمدیہ جماعت نے وہاں بھیجوایا تھا مگر مجسٹریٹ ) صاحب نے اس بیان سے تسلی نہیں پائی۔کہا جاتا ہے انہوں نے بار بار ہیڈ کانسٹیبیل کو کہا کہ ارے یہ احراری لوگ تو کہتے ہیں کہ بہت سے احمدی تھے کیا یہ یونہی نام لیتے ہیں، بتا کون کون لوگ تھے مگر اس پر بھی اس نے یہی کہا کہ یہی دو احمدی تھے جن کا میں نے ذکر کیا ہے اس تحقیق کے بعد مجسٹریٹ نے کہا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ کیا کہ سنو میاں ہیڈ کانسٹیبل ! یہاں مسجد