خطبات محمود (جلد 15) — Page 337
خطبات محمود ۳۳۷۰ سال ۱۹۳۴ء گو ہر الزام بعد میں غلط ہی نکلتا تھا لیکن جماعت کی اصلاح پر نظر رکھتے ہوئے میں ہر دفعہ اپنے ہی آدمیوں پر ناراض ہوتا کہ آپ لوگ اعتراض کا موقع ہی کیوں دیتے ہیں۔ اس دفعہ بھی میں نے ایسا ہی کیا گو حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک میری طبیعت میں بھی اس قدر اشتعال پیدا ہو چکا تھا کہ اگر جماعت کی ذمہ داری میرے سر نہ ہوتی تو میں جیل جانا پسند کرتا لیکن اس روزمرہ کی چھیڑ خانی کو برداشت کرنے سے انکار کر دیتا۔ بہرحال اس دفعہ پھر حکومت کی مشینری شدت کے ساتھ حرکت میں آئی اور میں نے بھی اپنی جماعت کے لوگوں کو ڈانٹنا شروع کیا کہ کیوں آپ لوگ سلسلہ کی عزت کے خیال سے اپنے جوشوں کو دبا کر نہیں رکھتے۔ ذلت برداشت کرلو لیکن ان باتوں سے بچو جن سے سلسلہ کی ہتک ہوتی ہے۔ اس دفعہ ایک انسپکٹر صاحب پولیس تفتیش کیلئے مقرر کئے گئے انہوں نے یہاں آکر بیان لئے اور ڈاک خانہ کے اس کلرک نے جس کی نسبت کہا گیا تھا کہ اسے اپنے فرائض منصبی سے روکا گیا ہے، باوجود مخالفت کے صاف کہہ دیا کہ اسے ڈاک خانہ کے کام سے کسی نے نہیں روکا۔ صرف اس کے ایک دوست نے اس سے شکوہ کیا تھا کہ تم ہمارے بھی دوست بنتے ہو اور احرار سے بھی میل جول رکھتے ہو، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ پولیس بیانات لے گئی اور ہم نے سمجھا کہ یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا مگر بعد میں بعض ذرائع سے معلوم ہوا کہ اوپر یہ رپورٹ کی گئی ہے کہ شکایت تو درست تھی لیکن غالبا کلرک کو احمدیوں نے ورغلا لیا ہے، اس لئے وہ اب منکر ہو گیا ہے۔ اب اگر یہ رپورٹ درست ہے تو سمجھ لو کہ ہمارے لئے کس قدر مشکلات پیدا کر دی گئی ہیں۔ کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اگر کوئی احمدی ہمارے حق میں شہادت دے تو اسے یہ کہہ کر رد کر دیا جائے گا کہ یہ احمدی ہے اور جھوٹ بولتا ہے، اگر غیر احمدی ہمارے حق میں شہادت دے تو یہ کہا جائے گا کہ اسے احمدیوں نے ورغلا لیا ہے گویا ہمارے معاملہ میں صرف وہی گواہی کچی سمجھی جائے گی جو ہمارے خلاف ہو۔ ان حالات میں ہمارے لئے اپنی عزت کی حفاظت کیلئے کیا صورت رہ جاتی ہے اور ہمارے لئے انصاف پانے کا کون سا ذریعہ باقی رہ جاتا ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ ابھی چند ماہ ہوئے ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ پیش تھا، حج صاحب ایک انگریز تھے، ان کے سامنے ایک فریق کے وکیل نے کہا کہ صاحب دوسرا فریق احمدی ہے اور گواہ بھی احمدی ہیں۔ اس پر منصف مزاج حج نے اس کو اس دلیل کے پیش کرنے سے