خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 26

خطبات محمود ۲۶ سال ۱۹۳۴ء محسوس ہوتا تھا گویا کہ ان کی گردن پر تلوار لٹک رہی ہے، ہزارہا دشمنوں کے مقابلہ میں چند سو آدمی کیا حقیقت رکھتے ہیں۔ جن خطرات سے ان حالات کے ماتحت صحابہ کرام دوچار ہوتے تھے ان کی وجہ سے ان کے درجات کو خاص بلندی حاصل ہوئی۔ ایک صدی بعد عام لوگوں میں سے جس شخص نے قربانیاں کیں یا اس وقت جو قربانیاں کرتا ہے، اسے وہ درجات حاصل نہیں ہو سکتے۔ اب تو سلطنتیں قائم ہیں، جان کا اتنا خطرہ نہیں، تباہی اور بربادی کا اتنا اندیشہ نہیں اب اگر کوئی اپنی ساری دولت بھی خدا کی راہ میں لٹا دے تو اُسے وہ ثواب میسر نہیں آسکتا جو حضرت ابوبکر " کو حاصل ہوا۔ اس وقت روپیہ پھر حاصل کرسکنے کے ذرائع موجود ہیں۔ ایک تاجر اپنا تمام اثاثہ خدا کی راہ میں دے کر از سر نو دولت کماسکتا ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ پھر روپیہ پیدا کر سکے گا لیکن جس وقت حضرت ابوبکر نے مالی قربانی کی تھی، اُس وقت دوبارہ روپیہ پیدا کر سکنے کے تمام ذرائع مفقود تھے اور انہیں معلوم تھا کہ وہ دوبارہ روپیہ نہیں کما سکیں گے۔ اُس روپیہ سے ہمیشہ کیلئے محروم ہو جانے کے خیال کے باوجود انہوں نے قربانی کی۔ سوال صرف مال کا نہیں کہ حضرت ابوبکر نے کس قدر مال خدا کی راہ میں دیا بلکہ اُس وقت کے حالات کا ہے۔ وہی حالت اب ہماری جماعت کی ہے۔ اس کو بھی ہر قسم کے خطرات نے انہی قربانیوں کا موقع دیا ہے جو صحابہ نے کیں۔ ہماری قربانیاں صرف وہی نہیں جو ظاہری ہیں مثلاً روپیہ پیسہ کی قربانی بلکہ ہماری قربانیاں وہ ہیں جو اُن خطرات سے عہدہ برآ ہونے کیلئے کرنی پڑتی ہیں جو ہمیں درپیش ہیں۔ ان کا اندازہ وہی شخص لگا سکتا ہے جس کو معلوم ہو کہ اس جماعت کو تمام دنیا سے مقابلہ کرنا ہے۔ اب بھی وہی خطرات درپیش ہیں۔ لہٰذا انہی قربانیوں کی ضرورت ہے اور ان قربانیوں کے عوض وہی انعامات و درجات ملیں گے جو پہلے لوگوں کو ملے۔ ایسے وقت میں سب سے بڑی قربانی تبلیغ ہوتی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ حضرت علی سے فرمایا ۔ اے علی ! اگر ہمیں تمام دنیا مل جائے اور اس کی تمام وادیاں غلے سے بھری پڑی ہوں تو وہ سب ایک آدمی کی ہدایت کے برابر نہیں ہے۔ یوں تو ہر زمانہ میں اور ہر جگہ تبلیغ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن نبی کا زمانہ تو ایسا ہوتا ہے جس میں سب امور سے زیادہ اہمیت تبلیغ ہی کو حاصل ہوتی ہے یہ خطرات کا زمانہ ہے۔ لہٰذا قربانیاں کرو اور سب سے بڑی قربانی تبلیغ کر کے احمدیت میں لوگوں کو داخل کرو۔ ہماری جماعت کیلئے یہ سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔