خطبات محمود (جلد 15) — Page 309
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ کیا اچھا جواب دیا کہ کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ اس قانون کی نافرمانی کی وجہ سے اگر کسی شخص کو قید کرنے کی نوبت آتی تو جماعت کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا کہ کسی اور کو یہ اعزاز دے کر خلیفہ کی ہتک کیوں کی گئی۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی افسر عقل سے ایسا کو را ہو سکتا ہے کہ وہ فی الواقع یہی بات سمجھ رہا ہو۔یہ تمسخر ہے۔اور جیسا کہ محاورہ ہے ہتک کے ساتھ زخم بھی پہنچایا گیا ہے۔ایسا کرنے والوں کا یہی منشاء ہے کہ ہتک بھی کریں اور دلوں کو بھی کریں۔اس جواب کا تو یہ مطلب ہے کہ نوٹس ایک بہت بڑی عزت افزائی تھی۔پس اگر یہ اعزاز خلیفہ کو نہ دیا جاتا تو تم اس میں کیونکر حصہ دار ہو سکتے تھے۔تمہاری پچاس سالہ خدمات کا حکومت پر ایک بوجھ تھا اس پر بوجھ تھا کہ تم نے جنگِ یورپ میں آدمیوں اور روپوؤں سے مدد کی اس پر بوجھ تھا کہ تم نے رولٹ ایکٹ کی شورش کا مقابلہ کیا اس پر بوجھ تھا کہ تم لوگوں نے ہجرت کی تحریک کا مقابلہ کیا اور اس نے تم کو کوئی بدلہ نہیں دیا اس پر بوجھ تھا کہ تم نے نان کو آپریشن (NON COOPERATION) کا مقابلہ مفت لٹریچر تقسیم کرکے اور جلسوں اور لیکچراروں کے ذریعہ کیا اور حکومت اس کا بدلہ دینے سے عاجز رہی، اس پر بوجھ تھا کہ تم نے سول ڈس او بیڈنس (CIVIL DISOBEDIENCE) کا مقابلہ کیا، ریڈ شرٹس (RED SHIRTS) کا مقابلہ کیا، بنگال میں ٹیررازم (TERRORISM) کا مقابلہ کیا اور اس نے کوئی قدر دانی نہ کی، اب یہ ایک موقع حکومت کو قدر دانی کاملا تھا اگر یہ انعام خلیفہ کو نہ دیا جاتا تو تم سب احمدی اس میں کس طرح شریک ہو سکتے تھے۔پس ہتک کرنے کے بعد یہ مزید ظلم ہے کہ ہمارے احساسات کے ساتھ تمسخر کیا جارہا ہے۔اور مجھے تو ایسا نظر آرہا ہے کہ حکومت پنجاب کے بعض (ابھی میں حکومت پنجاب کا نام نہیں لیتا کیونکہ بعض ممبروں نے کہا ہے کہ ہمیں تو علم بھی نہیں) افسروں نے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ ہم نے کانگرس کو دبالیا ہے، باغی جماعتوں کو توڑ دیا ہے اور اب ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ ہمیں وفاداروں کی بھی ضرورت نہیں۔اور جب یہ بات دنیا کے سامنے آئے گی تو ہر وہ شخص جس کے دماغ میں عقل ہے یہی سمجھنے پر مجبور ہوگا کہ اس حکومت کے پاس جانا خطرناک ہے یہ نہ دوست کو چھوڑتی ہے نہ دشمن کو سب کو مارتی ہے۔میں حیران ہوں کہ آخر ان حکام اور ان احراریوں کا ہم نے کیا بگاڑا ہے؟ میں نے مخلا بالطبع ہو کر اس امر پر غور کیا ہے کہ ہم نے ان کو کیا نقصان پہنچایا ہے لیکن کوئی بات مجھے نظر نہیں آئی۔ہم نے ہر ایک کی خدمت کی ہے اور خدمت