خطبات محمود (جلد 15) — Page 285
خطبات محمود ۲۸۵ سال ۱۹۳۴ء اور کہتا کہ آپ لوگ یہاں تبلیغ کیلئے آئے ہیں نہ کہ قتل کی دھمکیاں دینے۔یہ سوال نہیں کہ ہم پر ان کی دھمکیوں کا کیا اثر ہوا۔ہم جانتے ہیں کہ انبیاء اور ان کی جماعتوں کو ایسی دھمکیاں دی ہی جایا کرتی ہیں۔رسول کریم ﷺ کو بھی ایران کے بادشاہ کی طرف سے ایسی ہی دھمکی دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہاں آؤ تو پتہ لگے اے' کہنے والے ایسا کیا ہی کرتے ہیں لیکن اس سے سننے والوں کی دماغی حالت کا پتہ بخوبی لگ سکتا ہے۔! اس کے بعد میں اس مضمون کی طرف آتا ہوں جس کے متعلق میں نے پچھلے جمعہ میں کہا تھا مگر وہ چونکہ بہت اہم مضمون ہے اس لئے ضروری ہے کہ ساتھ ساتھ حکومت کے افسروں کو ، جماعت کے افراد کو دوسری پبلک کو اور ان لوگوں کو بھی جو ہمارے خلاف اس قدر غیظ و غضب کا اظہار کر رہے ہیں، سب کچھ سنا دیا جائے۔مومن کا کوئی کام خفیہ نہیں ہوتا مومن انارکسٹ نہیں ہوا کرتا، رسول کریم ﷺ کا دستور تھا کہ آپ " جب کسی دشمن پر چڑھائی کرتے تو رات کے وقت حملہ نہیں کرتے تھے اور پھر حملہ سے پیشتر اذان دلواتے تا دوسروں کو پتہ لگ جائے کہ مسلمان آپہنچے ہیں ہے۔ہم بھی اسی رسول کے پیرو ہیں اس لئے جو بھی کریں گے علی الاعلان کریں گے۔ہمارے کسی کام میں کوئی اخفاء نہیں ہو گا سوائے اس کے جو ضروری اور جائز ہو۔ایک کبڈی کھیلنے والا حریف کو پکڑتا ہے مگر پہلو بچاکر ، کنکوا اڑانے والا دوسرے کے کنکوے کو چکر میں لاکر کاٹتا ہے، تاجر اپنے گاہکوں کا علم دوسرے کو دینا پسند نہیں کرتا۔پس اس قسم کے جائز اخفاء کے سوا مخفی تدابیر جائز نہیں اور ہم انہیں پسند نہیں کرتے۔پس ایسی باتوں کو مستغنی کر کے ہمارے کاموں میں نہ پہلے کبھی اخفاء ہوا ہے نہ آئندہ ہوگا کیونکہ ہمارا حساب صاف اور ہماری نیتیں نیک ہیں۔پس میں چاہتا ہوں کہ یہ ساری باتیں ان الفاظ میں آجائیں جن میں میں پیش کرتا ہوں یا قریب قریب انہی الفاظ میں اور ہر ایک کو معلوم ہو جائیں لیکن مضمون شروع کرنے سے پیشتر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو دو باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔اول یہ کہ ہر شخص جو سلسلہ میں داخل ہے جس نے میرے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام، آپ کے ذریعہ آنحضرت ا کی اور ان کے ذریعہ خدا کی بیعت کی ہے، وہ اپنی جان، مال، عزت آبرو اولاد، جائداد غرضیکہ ہر چیز خدا رسول اور اس کے نمائندوں کیلئے قربان کرچکا ہے اور اب کوئی چیز اس کی اپنی نہیں، میں یہ کھول کر بتا دینا چاہتا ہوں کہ جس کے دل میں بیعت کے اس مفہوم کے متعلق ذرہ بھی شبہ ہے وہ اگر منافق