خطبات محمود (جلد 15) — Page 281
خطبات محمود ۲۸۱ سال ۱۹۳۴ء ہماری جماعت کی وفاداری اور انتہائی قربانی کا اعتراف کرتے ہیں مگر آج گورنمنٹ کے حکام ہمیں یہ سناتے ہیں کہ تم امن کو برباد کرنے والے ہو۔ ہم اس جھوٹ کو ثابت کر کے رہیں گے اور آئندہ بھی حسب موقع ایسے کام کرکے دکھائیں گے جن سے ثابت ہوگا کہ ہم ملک معظم اور حکومت اور وطن کے ان ہزاروں روپیہ تنخواہ لینے والوں ۔ سے جو روپیہ لے کر کام کرتے ہیں اور پھر خطابوں کیلئے اپنی جھولی ملک معظم کی حکومت کے آگے پھیلائے رکھتے ہیں زیادہ خیر خواہ اور ان کیلئے زیادہ قربانی کرنے والے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے مومن ہیں اور مومن ڈرا نہیں کرتا۔ ہم نے گورنمنٹ کی جو اطاعت کی ہے وہ اصول کے ماتحت کی ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں یہی کہتا ہے کہ گورنمنٹ کے وفادار رہو۔ پس گورنمنٹ کے غصہ دلانے کے باوجود ہم اپنے اس عہد کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں اور ہم گورنمنٹ کو بتادیں گے کہ وہ ہم پر الزام لگانے میں دھو کا خوردہ ہے۔ پس ان ایام کیلئے میں ہدایت کرتا ہوں کہ کوئی شخص خواہ کس قدر شورش برپا کی جائے اپنا ہاتھ مت اٹھائے اور نہ اپنی زبان ہلائے۔ یہاں چونکہ بعض منافق رہتے ہیں اس لئے ممکن ہے وہی کچھ شورش کردیں۔ پس میری ہدایت یہ ہے کہ اگر تمہارے باپ، سگے بھائی یا عزیز سے عزیز دوست کو بھی تمہارے سامنے مار پڑ رہی ہو تو تمہارا یہ کام نہیں کہ تم ہاتھ اٹھاؤ اور اس کی مدد کرو بلکہ تم وہاں سے چلے آؤ اور سلسلہ کے افسران یا گورنمنٹ کے حکام کو اطلاع دو اور جیسا تم کو حکم دیا جائے ویسا کرو۔ اپنی مرضی سے کام نہ کرو اور اس وقت تک خاموش رہو جب تک کہ یہ جلسہ ختم نہیں ہو جاتا۔ یعنی اس وقت تک خود حفاظتی کے حق سے بھی دستبردار ہو جاؤ۔ اس کے بعد میں بتاؤں گا کہ گورنمنٹ کے قانون کا لحاظ رکھتے اور ملک معظم کی وفادار رعایا ہوتے ہوئے کس طرح ہم ان ظالمانہ اور جھوٹے اعتراضات سے بچ سکتے ہیں جو آج ہم پر کئے گئے ہیں۔ (الفضل ۲۳- اکتوبر ۱۹۳۴ء) ۲۴ له التوبة : ٢٤ ه بخاری کتاب الجمعة باب اذا رأى الامام رحلا جاء و هو يخطب (الخ)