خطبات محمود (جلد 15) — Page 280
خطبات محمود ۲۸۰ سال ۱۹۳۴ء وه نہیں بتادیں منہ میں جارہا ہے۔تم میں سے جو شخص اس قربانی کیلئے بھی تیار ہو وہ اپنے آپ کو پیش کرے۔یہ سن کر وہی سپاہی جسے افسر نے گالی دی تھی، کھڑا ہوا اور اس نے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔افسر نے اسے بھیجا اور جب وہ مورچہ کی طرف بڑھا تو چاروں طرف سے گولیاں برس رہی تھیں مگر خدا تعالیٰ کی قدرت کہ اس نے مورچہ کو فتح کر لیا اور اسے کوئی گولی نہ لگی۔جب صحیح سلامت کامیاب ہو کر واپس پہنچا تو افسر آگے بڑھا اور اس نے مصافحہ کرنا چاہا اس پر سپاہی نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور کہا میں نے یہ اس دن کی گالی کا بدلہ لیا ہے اور میں تجھے اس قابل نہیں سمجھتا کہ تجھ سے مصافحہ کروں۔ہمارا بدلہ بھی اِنْشَاءَ الله ایسا ہی ہوگا۔ہم گے کہ جو الزام وہ ہم پر لگاتے ہیں وہ جھوٹا ہے، ہم انہیں بتادیں گے کہ ہم معظم کے ان لوگوں سے بہت زیادہ وفادار ہیں جو ہزاروں روپیہ تنخواہ لیتے ہیں، ہم انہیں بتادیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو قیام امن کیلئے ہمیں تعلیم دی اس پر تمام دنیا سے ہم زیادہ کاربند ہیں، ہم یہ بدلہ لے کر انہیں شرمندہ کریں گے اور آنے والی نسلوں کی نگاہوں میں انہیں ذلیل کریں گے لیکن اس کے متعلق احکام میں بعد میں دوں گا اور ہر شخص کا فرض ہو گا کہ وہ ان احکام کی تعمیل کرے۔ہم نے پچاس سال سے دنیا میں امن قائم کر رکھا ہے، ہم نے لاکھوں روپیہ گورنمنٹ کی بہبودی کیلئے قربان کیا ہے اور کوئی شخص بتا نہیں سکتا کہ اس کے بدلہ میں ایک پیسہ بھی ہم نے گورنمنٹ سے کبھی لیا ہو۔ہمارے پاس وہ کاغذات موجود ہیں جن میں گورنمنٹ نے ہمارے خاندان کی خدمات کا اعتراف کیا اور یہ وعدہ کیا ہوا ہے کہ اس خاندان کو وہی اعزاز دیا جائے گا جو اسے پہلے حاصل تھا۔ہمارے پردادا کو ہفت ہزاری کا درجہ ملا ہوا تھا جو مغلیہ سلطنت میں صرف شہزادوں کو ملا کرتا تھا۔پھر عضد الدولہ کا خطاب حاصل تھا یعنی حکومت مغلیہ کا بازو مگر ہم نے کبھی گورنمنٹ کے سامنے ان کاغذات کو پیش نہیں کیا اور نہ اپنی وفادارانہ خدمات میں کمی کی بلکہ ہر روز زیادتی کرتے چلے گئے۔ہم نے کانگرس کا مقابلہ کیا، ہم نے احرار موومنٹ کا مقابلہ کیا اور اس مقابلہ میں لاکھوں روپیہ صرف کیا جانیں قربان کیں، جنگ کے موقع پر اپنی جماعت کے بہترین آدمی پیش کئے۔سراوڈوائر لارڈ چیمسفورڈ اور لارڈ ارون سر میلکم ہیلی سر جعفرے، وی مانٹ مورنسی اور دوسرے اعلیٰ حکام کی تحریریں جن میں سے بعض ان کی دستخطی ہیں اور بعض ان کے نائبین کی ہیں میرے پاس موجود ہیں جن میں وہ