خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 279

۲۷۹ سال ۴۱۹۳۴ طرف سے ہوئی ہیں وہ ان قربانیوں کے مقابلہ میں بہت ہی حقیر ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت نے کیں یا حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں نے کیں یا رسول کریم کے صحابہ نے کیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس رنگ میں قربانی کریں جو بہت جلد نتیجہ خیز ہو کر ہمارے قدموں کو اس بلندی تک پہنچا دے جس بلندی تک پہنچانے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں مبعوث ہوئے۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر آپ لوگوں میں سے بعض کو دور دراز ملکوں میں بغیر ایک پیسہ لئے نکل جانے کا حکم دیا گیا تو آپ لوگ اس حکم کی تعمیل میں نکل کھڑے ہوں گے ، اگر بعض لوگوں سے ان کے کھانے پینے اور پہننے میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا تو وہ اس مطالبہ کو پورا کریں گے، اگر بعض لوگوں کے اوقات کو پورے طور پر سلسلہ کے کاموں کیلئے وقف کر دیا گیا تو وہ بغیر چون و چرا کئے اس پر رضامند ہو جائیں گے اور جو شخص ان مطالبات کو پورا نہیں کرے گا وہ ہم میں سے نہیں ہوگا بلکہ الگ کر دیا جائے گا۔ہمارے ذمہ ایک نہایت ہی زبر دست فرض عائد ہو گیا ہے۔حکومت نے ہمارے سلسلہ کی سخت ہتک کی ہے ایسی ہتک کہ جس وقت تک ہم اس کا ازالہ نہ کرلیں ہم صبر سے کام نہیں لے سکتے لیکن ہمارے ذرائع قانون کے اندر گے، ہمارے ذرائع محبت اور پیار کے ہوں گے۔مجھے اس وقت ایک قصہ یاد آگیا۔انگریزی تواریخ میں لکھا ہے کہ ایک انگریز افسر نے اپنی فوج کے ایک سپاہی کو گالی دی۔وہ سپاہی گالی سن کر خاموش ہو گیا۔کچھ دنوں کے بعد ایک جنگ کے موقع پر اس 1 به حکام بالا کی طرف سے اعتراض کیا گیا کہ فلاں مورچہ تم فتح کر سکتے تھے مگر تم نے اسے فتح نہیں کیا۔جواب دو کہ اس کی کیا وجہ ہے۔وہ افسر چونکہ جانتا تھا کہ اس مورچہ کو فتح کرنے میں بہت سی جانوں کو قربان کرنا پڑے گا اس لئے اس نے تمام سپاہیوں کو اکٹھا کیا اور کہا دیکھو سرکار کا حکم آیا ہے کہ فلاں مورچہ کو فتح کیا جائے۔آپ لوگ محبت وطن ہیں آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ اس وقت حکومت کی مدد کریں گے اور چونکہ جانیں ضائع ہونے کا یقینی طور پر خطرہ ہے، اس لئے دس آدمی مجھے ایسے چاہئیں جو اپنی جانوں کو قربان کرنے کیلئے تیار ہوں۔اس پر دس آدمی کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اپنے نام لکھا دیئے۔پھر اس نے کہا کہ اب مجھے ایک اور آدمی چاہیے جسے ان دس آدمیوں سے بھی زیادہ اہم کام سپرد کیا جائے گا اور وہ کام ان کی لیڈری کرنا ہے۔اس کے متعلق ننانوے فیصدی بلکہ سو فیصدی یہی احتمال ہے کہ وہ موت کے ہوں