خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 278

خطبات محمود ۲۷۸ سال ۱۹۳۴ء اپنے اموال میرے ہاتھ پر فروخت کرچکے ہیں، تو اب ہر ایک وہ مطالبہ جو شریعت کے اندر ہو میں آپ لوگوں سے کر سکتا ہوں اور ہر ایک مطالبہ جو میں شریعت کے اندر کروں اس کے متعلق جماعت کے ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کو پورا کرے اور اگر کوئی اس مطالبہ کو پورا نہیں کرتا تو وہ منافق ہے، احمدی نہیں۔اس کے بعد سب سے پہلا مطالبہ جو میں آپ لوگوں سے کرتا ہوں اور جس کی آزمائش کے بعد میں دوسرا مطالبہ کروں گا یہ ہے کہ یہاں ایک جلسہ ہونے والا ہے اس جلسہ کے متعلق مجھے یقینی طور پر اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یہ لوگ کوئی شورش اور فساد برپا کرنا چاہتے ہیں۔پس میرا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ اگر واقعہ میں وہ اطلاعات درست ہیں جو مجھے موصول ہوئیں تو میں اپنی جماعت کے ہر شخص کو یہ حکم دیتا ہوں کہ خواہ وہ مارا اور پیٹا جائے“ اپنا ہاتھ کسی پر مت اٹھائے اور اپنی زبان مت کھولے بلکہ اگر وہ قتل بھی کر دیا جائے تو بھی اس کا حق نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ اٹھائے اور اس کا حق نہیں کہ وہ اپنی زبان ہلائے۔اگر ایسی حالت میں کوئی بھائی پاس سے گزر رہا ہو تو میں اسے بھی ہدایت کرتا ہوں کہ وہ ہرگز اس کی مدد نہ کرے ہاں فوٹو کیلئے کیمرے موجود ہونے چاہئیں جن لوگوں کے پاس یہاں کیمرے ہیں وہ اپنے کیمروں کو تیار کرلیں اور جو باہر سے منگوا سکتے ہوں وہ باہر سے منگوالیں۔جہاں کہیں وہ کوئی ایسی حرکت دیکھیں جس سے انہیں معلوم ہو کہ پولیس اور اس کے افسر اپنے فرائض کو ادا نہیں کر رہے، تو ان کا فرض ہوگا کہ وہ اس حالت کا فوٹو اتار لیں۔ہاتھ مت ہلائیں، زبان ا مت کھولیں بلکہ کیمرے تیار رکھیں اور جب دیکھیں کہ پولیس اور اس کے افسر اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کر رہے یا احمدیوں پر ظلم و تعدی ہو رہا ہے تو فوراً اس حالت کا فوٹو اتار کر اسے محفوظ کرلیں۔پس اگر وہ روایات صحیح ہیں جو مجھے پہنچیں اور اگر ان لوگوں کا یہی ارادہ ہے کہ فتنہ و فساد پیدا کریں تو اس اعلان کے بعد آپ لوگوں کی آزمائش ہو جائے گی اور پتہ لگ ئے گا کہ کہاں تک آپ لوگ دین کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔اس کے بعد دوسرا مطالبہ کروں گا اور دیکھوں گا کہ آپ کس حد تک اسے پورا کرتے ہیں مگر میں وہ مطالبہ احراری جلسہ کے ایام میں پیش کرنا نہیں چاہتا تاکہ اسے انتقامی رنگ پر محمول نہ کیا جاسکے اور تا وہ مطالبہ فتنہ کا کوئی اور دروازہ نہ کھول دے۔اس کے بعد میں دیکھوں گا کہ آپ لوگوں میں سے کتنے ہیں جو اس قربانی کیلئے تیار رہتے ہیں۔جو قربانیاں اس وقت تک ہماری جماعت کی وہ