خطبات محمود (جلد 15) — Page 268
خطبات محمود ۲۶۸ سال ۱۹۳۴ء تھا جہاں آپ بآسانی پہنچ سکتے تھے، اکیلے ہی اس شور کی وجہ معلوم کرنے کیلئے چلے گئے۔ ان دنوں خبر مشہور تھی کہ وہ عیسائی قبائل جو قیصر کے ماتحت تھے مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ شور سن کر اکٹھے ہوئے، بعض مسجد نبوی میں جمع ہو گئے اور بعض نے ادھر اُدھر باتیں کرنا شروع کردیں اور سب اس انتظار میں تھے کہ رسول کریم ال جس طرح ارشاد فرمائیں کیا جائے۔ اتنے میں ہم نے دیکھا کہ ایک سوار باہر سے آرہا ہے اور پاس آنے پر معلوم ہوا کہ رسول کریم ال ہیں۔ آپ نے فرمایا میں شور سن کر دیکھنے گیا تھا کہ کیا بات ہے مگر کوئی بات نہیں ہے اے ۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ ہوشیاری اور احتیاط میں دوسروں سے کس قدر بڑھے ہوئے تھے حالانکہ آپ سے زیادہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ جسے اللہ تعالی کا قرب حاصل اور کس کا خوف ہو سکتا ہے۔ اس کیلئے تمام ڈر مٹ جاتے ہیں بیشک حذر اس کے اعلیٰ اخلاق میں سے ایک خلق ہوتا ہے مگر ڈر بالکل نہیں ہوتا۔ رسول کریم اللہ نے اس موقع پر پہلے اس گھوڑے کی تعریف کی اور فرمایا یہ تو سمندر ہے۔ پھر ان لوگوں کی تعریف کی جو مسجد میں جمع ہو گئے تھے اور فرمایا کہ ایسے مواقع پر جمع ہو جانا بہتر ہوتا ہے۔ اور جمع ہونے کیلئے مسجد سے بہتر جگہ اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ بہادر اور ہو اسے اور تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ جب حضرت عثمان کے زمانہ میں شورش ہوئی تو صحابہ کو باغیوں نے گھروں میں بند کر دیا تھا۔ اگر صحابہ ہوشیاری سے کام لیتے اور مسجد میں جمع ہو جاتے تو وہ واقعہ کبھی نہ ہوتا جو ہوا۔ باغیوں نے سب مکانوں پر پہرہ لگا دیا اور کسی کو باہر نکلنے نہ دیا اور چونکہ اکیلا آدمی زیادہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس لئے صحابہ " کچھ نہ کر سکے اور باغیوں نے حضرت عثمان " کو شہید کر ڈالا۔ تو بیشک ہوشیاری اور بیداری اعلیٰ اخلاق میں سے ہے اور مومن کو ہمیشہ ہوشیار و چوکس رہنا چاہئیے مگر ہوشیاری اور چیز ہے اور اضطراب اور ہوشیاری سے مراد یہ ہے کہ ہم خبردار رہیں کہ دشمن کیا کرتا ہے لیکن اضطراب کے معنے یہ ہیں کہ ہم سمجھ نہیں سکتے کیا کرنا چاہیے۔ بیداری اس لئے ہوتی ہے کہ دیکھا جائے دشمن کیا کرتا ہے یا کیا کرنا چاہتا ہے۔ پھر عقل سے اس کا مقابلہ کرتا ہے، اس کے شر سے بچنے کیلئے مناسب طریق اختیار کرنا ہے لیکن یہ چیز مجھے کسی صورت میں پسند نہیں کہ لوگوں میں اضطراب پیدا ہو۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ ہے پس جب امام موجود