خطبات محمود (جلد 15) — Page 262
خطبات محمود ۲۶۲ سال ۱۹۴۳۴ تو حضور میں ایک حد تک بری الذمہ ہوں اور کہہ سکتا ہوں کہ اے خدا! یہ کام میں نے ان کے سپرد کر دیا تھا اگر انہوں نے اس میں کوتاہی کی ہے تو یہ خود اس کے ذمہ دار ہیں مگر پھر بھی طبیعت بے آرامی محسوس کرتی ہے اور نیند اُڑ جاتی ہے۔سلسلہ کے ناظروں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھیں اور کوشش کریں کہ انہیں اُس وقت تک آرام نہ آئے جب تک کہ وہ اپنے مفوضہ فرائض کو تکمیل تک نہ پہنچا لیں۔اسی طرح نائب ناظروں افسران صیغہ جات اور ہیڈ کلرکوں وغیرہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے کاموں میں مسابقت کی روح پیدا کریں۔وہ شخص جو صرف بندوں کیلئے کام کرتا ہے خدا تعالی کیلئے کام نہیں کرتا اس کے کاموں میں برکت نہیں رہتی۔پس ہمارے تمام کام خداتعالی کیلئے ہونے چاہئیں اور اگر ہم خدا تعالی پر توکل کریں تو مشکل سے مشکل کام بھی آسانی سے ہو سکتے ہیں۔بیسیوں دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ بعض معاملات میں عقل انسانی چکرا جاتی ہے لیکن دو منٹ بلکہ بعض دفعہ ایک منٹ کی دعا ہی ایک نور پیدا کر دیتی ہے اور وہ امر جس کے متعلق دروازے بند نظر آتے ہیں اس کیلئے کئی دروازے کھل جاتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہر انسانی دماغ نئی سے نئی تدبیریں نکال سکتا ہے لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جو لوگ خداتعالی کیلئے کسی کام کو سرانجام دینے کیلئے کھڑے کئے جاتے ہیں ان کیلئے نئے نئے راستے کھولے جاتے ہیں۔اللہ تعالٰی خود فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ہے وہ لوگ جو خالص ہو کر میرے لئے کوشش کرتے ہیں ہم انہیں ایک نہیں بلکہ کئی رستے دکھا دیتے ہیں۔پس صحیح طریق یہی ہے کہ کارکن اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں اور ان کے جسم اور ان کی روحیں اس کی بارگاہ میں جھکی ہوئی ہوں تب وہ خدا تعالی کی طرف سے برکتیں پائیں گے اور انہیں کام کیلئے وہ سامان دیئے جائیں گے جو انہیں نظر نہیں آرہے۔پس خدا تعالی کی طرف توجہ کی جائے نیکی اور تقویٰ کے ساتھ کام کئے جائیں اور خشیت اللہ پر اپنے تمام کاموں کی بنیاد رکھی جائے۔میں ناظروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اوقات کا صحیح استعمال کیا کریں، کام میں دلچسپی لیں اور رات اور دن اس قسم کی سکیمیں سوچیں جن کے نتیجہ میں وہ اپنے فرائض کو عمدگی۔سرانجام دے سکیں۔اگر وہ اس امر میں کوتاہی کرتے ہیں تو گو ان کی کوتاہی سلسلہ کیلئے بھی مضر ہو مگر ان کے ایمانوں کو بھی برباد کردے گی۔بھر کارکن بھی اپنے کام کے ذمہ دار ہیں اور ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے کاموں کو وقت