خطبات محمود (جلد 15) — Page 260
سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ۲۶۰ والسلام نے آخری سانس لیا تو میں آپ کی چارپائی کے قریب کھڑا ہوا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے یہ عہد کیا کہ اے خدا! آج میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری دنیا بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے پھر جائے تب بھی میں اکیلا ہی اس سلسلہ کو قائم کروں گا اور اس تعلیم کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لائے ہیں پھیلاؤں گا۔کسی دشمنی سے نہیں ڈروں گا اور کسی مخالفت کی پرواہ نہیں کروں گا۔میں سمجھتا ہوں وہ عہد جو میں نے اُس وقت کیا میرے ان اعمال سے زیادہ شاندار ہے جن کے کرنے کا خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے موقع ملا اور میں سمجھتا ہوں یہی نیت اور ارادہ ہے جو ایمان کی علامت وتی ہے۔جب تک انسان اس ارادہ کو لے کر کھڑا نہیں ہوتا کہ میں نہیں جانتا زید اور بکر اور عمر کیا کرتا ہے۔میں یہ جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے پر کیا فرائض عائد کئے ہیں اُس وقت تک وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔اگر وہ سمجھتا ہے کہ دنیا یہ نیکی کرے گی تو میں بھی کروں گا اور اگر نہیں کرے گی تو نہیں کروں گا تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اسے خدا پر ایمان نہیں۔میں نے کئی دفعہ دیکھا ہے بعض کمزور احمدی جب نظام سلسلہ کے کسی حکم کی شخص نے خلاف ورزی کرتے ہیں اور ان پر گرفت کی جاتی ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں بھی تو ایسا ہی قصور کیا تھا اسے کیوں سزا نہیں دی گئی حالانکہ اگر کسی افسر نے ایک مجرم کو سزا نہیں دی تو اس سے یہ کس طرح ثابت ہو گیا کہ تمہارے لئے بھی وہی فعل جائز ہے۔اس کے معنے تو یہ ہیں کہ وہ افسر بھی گناہ گار ہے۔اس سے یہ نتیجہ کس طرح نکلا کہ تمہارے لئے اس فعل کا ارتکاب جائز ہو گیا ہے۔پس یہ مت دیکھو کہ فلاں نے بدی کی تو اسے سزا نہ ملی بلکہ یہ دیکھو کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے۔پھر جو بدی ہو اسے مت اختیار کرو اور جو نیکی ہو اسے کسی کے کہنے سے مت چھوڑو۔مگر پھر بھی چونکہ جماعت میں بعض کمزور طبائع ہوتی ہیں اور ان کی نظر ہمیشہ بندوں کی طرف اُٹھتی ہے خدا تعالیٰ کی طرف نہیں جاتی اور چونکہ ان لوگوں کو بچانا بھی ہمارا فرض ہے اس لئے انہیں بچانے کا ذریعہ یہ ہے کہ کارکنوں میں ہوشیاری اور بیداری پیدا ہو۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک کارکنوں میں وہ روح پیدا نہیں ہوئی جو میں پیدا کرنا چاہتا ہوں۔میں ان لوگوں کو جھوٹا سمجھتا ہوں جو کہا کرتے ہیں کہ ناظر کام نہیں کرتے نگر میں اتنا ضرور تسلیم کرتا ہوں کہ ابھی تک ہمارے ناظروں میں یہ ملکہ پیدا نہیں