خطبات محمود (جلد 15) — Page 249
خطبات محمود ۲۴۹ سال ۱۹۳۴ء کر کھاتے ہیں اور بعض تھوڑا سا کھا لیتے ہیں تو ان کا بھی گزارہ ہو جاتا ہے۔ پس یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو لا علاج ہو۔ جب تمام محلے والے اس ذمہ داری کو محسوس کرلیں کہ ان میں کوئی فاقہ زدہ نہ ہو تو پھر ان کا یہ بھی فرض ہوگا کہ وہ دیکھیں کہ ان کے محلہ میں کوئی ایسا شخص تو نہیں جو کام تو کر سکتا ہے لیکن کرتا نہیں کیونکہ اگر ہم نکما بیٹھنے والوں کو کھانا دیتے چلے جائیں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کئی نکتے پیدا ہو جائیں گے۔ پس بیکار لوگوں کو کام کرنے پر مجبور کیا جائے تاکہ ان کی طاقتیں ضائع نہ ہوں اور وہ سلسلہ کیلئے بوجھ کا موجب نہ بنیں۔ (الفضل ۳ - فروری ۱۹۶۰ء)