خطبات محمود (جلد 15) — Page 247
خطبات محمود ۲۴۷ سال ۱۹۳۴ء سے فائدہ نہیں اٹھاتیں تو مقامی جماعت کس طرح فائدہ اُٹھا سکتی ہے۔جس طرح یہاں کے رہنے والے چندہ دیتے ہیں اسی طرح سیالکوٹ، پشاور اور دوسری جماعتیں بھی چندہ دیتی ہیں مگر کیا ان جماعتوں کے غرباء لنگر خانہ میں سے کھانا کھا رہے ہیں کہ یہاں کے غرباء کا لنگر خانہ پر بار ڈالا جائے۔بیرونی جماعتیں چندے بھی دیتی ہیں اور پھر اپنے مساکین کو کھانا بھی کھلاتی ہیں اسی طرح کوئی وجہ نہیں کہ جو فرض باہر والے ادا کر رہے ہیں وہ یہاں والے ادا نہ کریں۔پس یہاں کے لوگوں کو یہ امر ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ لنگر خانہ جماعت کے مہمانوں کیلئے ہے نہ کہ ذاتی مہمانوں یا مقامی غرباء کیلئے مگر عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ اگر کسی کے ہاں کوئی ذاتی مہمان بھی آتا ہے تو اس کا کھانا لنگر خانہ کے ذمہ ڈال دیا جاتا ہے۔بعض دفعہ کسی کا سالا آجاتا ہے، خسر آجاتا ہے، بھائی بہنیں یا بھانجے آئے ہوئے ہوتے ہیں مگر کھانا لنگر سے منگوایا جاتا ہے حالانکہ لنگر خانہ اُس کیلئے ہے جس کا یہاں کوئی رشتہ دار نہیں اور جو جماعت کا آکر مہمان بنتا ہے۔پس جو رنگ یہاں کے بعض لوگوں نے اختیار کیا ہوا ہے وہ ایسا ہے کہ گویا وہ مہمان نوازی کے حکم پر تبر رکھنے والا ہے۔میں نے کئی دفعہ بیان کیا ہے کہ بعض لوگ ایسے مخلص ہوتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم لنگر کی روٹی تبرک کے طور پر کھانا چاہتے ہیں۔ایسے لوگوں کا کبھی ایک وقت کیلئے کھانا منگوالینا کوئی معیوب امر نہیں بلکہ اس قسم کی خواہش کو پورا کرنا ثواب کا موجب بنتا ہے۔میرے ایک قریبی عزیز ایک دفعہ آئے ہوئے تھے انہوں نے کہا میرے لئے لنگر سے روٹی منگوائی جائے۔میں نے وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ آج میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر خانہ کا کھانا تیتر کا کھاؤں۔تو بسا اوقات ایسے لوگ بھی تیرک کے طور پر لنگر سے دال روٹی منگوالیتے ہیں مگر یہ اور چیز ہے اسے ہم روک نہیں سکتے بلکہ ہمیں اس جذبہ کی قدر کرنی چاہیے لیکن مستقل طور پر اگر لنگر پر اپنا بوجھ ڈالا جائے تو یہ بہت ہی اخلاق کے گرے ہونے کا ثبوت ہے۔یہاں جس کا کوئی رشتہ دار نہ ہو اس نے تو لنگر سے ہی کھانا کھانا ہے مگر جس کے رشتہ دار ہوں اگر وہ بھی لنگر سے کھانا منگوائیں تو یہ درست نہیں ہوگا۔ایسے لوگوں کی ذمہ داری در حقیقت ان کے رشتہ داروں اور عزیزوں پر عائد ہوتی ہے۔میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے وہ کہا کرتے ہیں ہمیں باہر بڑی تنگی تھی ایک شخص ہمیں ملا اور اس نے کہا تم ہجرت کر کے مرکز میں کیوں نہیں چلے جاتے۔اس پر ہم ہجرت کرکے یہاں