خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 245

خطبات محمود ۲۴۵ سال ۱۹۳۴ء کے عہدیداروں کو ایسے آدمی مقرر کرنے چاہئیں جو متواتر دکانوں کی نگرانی رکھیں لیکن اس کام کیلئے کسی دکاندار کو مقرر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ انتظامی اصول کے خلاف ہے کہ جن پیشہ وروں کی نگرانی کی ضرورت ہو ان پر اسی پیشے کا کوئی آدمی مقرر کیا جائے ایسے شخص کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ اگر میں نے نقص بتائے تو میرے ہم پیشہ لوگ میرے مخالف ہو جائیں گے اور مجھے نقصان پہنچے گا۔ پس دکانداروں پر نگران کسی دکاندار کو مقرر نہ کیا جائے بلکہ اور لوگوں کے سپرد یہ ڈیوٹی کی جائے اور اس نگرانی پر مداومت اختیار کی جائے اور ایسے اصول مقرر کئے جائیں جن کے ماتحت تاجروں کی اصلاح ہو جائے۔ مثلا اشیاء کے نرخ کا معاملہ ہے یہاں کے تاجروں کا یہ طریق ہے کہ جتنے نرخ پر ان کا جی چاہے اشیاء بیچتے ہیں حالانکہ اگر اس اصل کو تعلیم کر لیا جائے تو دنیامیں سوائے تباہی کے کچھ نہ رہے اور نظام عالم درہم برہم ہو جائے۔ اسلام نے اپنی تعلیم میں اس اصل کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ لیکن چونکہ یہ تفصیلات بیان کرنے کا موقع نہیں اس لئے مختصر طور پر میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اسلام نے جو اشیاء کی خرید و فروخت کے متعلق اصول بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ خرید و فروخت دونوں میں معقولیت پائی جانی چاہئیے۔ نہ دکاندار کا نقصان ہو نہ خریدار کا۔ میں نے پچھلے دنوں ہی اس کا تجربہ کیا۔ مجھے اپنے بچوں کی شادی کے موقع پر کچھ مٹھائی کی ضرورت پیش آئی۔ ریٹ دریافت کئے گئے تو ہندوؤں نے جو ریٹ بتائے اس سے ڈیوڑھے ریٹ احمدی دُکانداروں نے بتائے اور وجہ یہ بتائی کہ ہم اچھا اور خالص گھی ڈالتے ہیں مگر لطیفہ یہ ہوا کہ جب میرے پچھلے خطبہ جمعہ کی بناء پر نگرانی کی گئی تو اسی دکاندار کا گھی جس نے کہا تھا کہ ہم خالص اور بہتر گھی مٹھائیوں میں استعمال کرتے ہیں روی اور ناقص پایا گیا۔ تو عدم نگرانی کی وجہ سے اس قسم کے نقص پیدا ہو جاتے ہیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ بعض چیزوں کے ریٹ میں دُگنا فرق پایا گیا۔ یہ بھی ایسا نقص ہے جس کا ازالہ ہونا ضروری ہے۔ پس عہدیداروں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف یہ دیکھا کریں کہ دکاندار عمدہ اور صاف ستھری چیزیں رکھیں جو صحت کیلئے کسی پہلو سے بھی مضر نہ ہوں بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ بھاؤ کے لحاظ سے بھی گاہکوں کو نقصان نہ پہنچا کرے۔ مجھے ان چیزوں کے گراں خریدے جانے کا افسوس نہیں بلکہ افسوس اس امر کا ہے کہ اس کا اثر دیانت اور امانت پر پڑتا ہے۔ میں نے اگر پندرہ میں سال میں بچوں کی شادی کے موقع پر پندرہ ہیں روپے کی مٹھائی لے لی تو خواہ وہ