خطبات محمود (جلد 15) — Page 211
خطبات محمود ۲۱۱ سال ۱۹۳۴ء تو مجھے بعد میں کسی وقت اس پر غصہ نہ آجائے ہے۔یہ قربانی ہے جو حقیقی قربانی ہے۔اس روح کو اپنے اندر پیدا کرو۔جب تک تم اپنے عزیز ترین وجودوں کو خدا تعالیٰ کیلئے چھوڑنے پر تیار نہیں ہو گے، جب تک تم منافقین کے اخراج کیلئے عملی رنگ میں جدوجہد نہیں کرو گے، اُس وقت تک اندرونی فتن سے محفوظ نہیں رہ سکتے اور جب تک اندرونی رفتن سے محفوظ نہیں ہوگے اس وقت تک مرض کی جڑ موجود رہے گی اور جب تک جڑ رہے گی حقیقی شفاء حاصل نہیں ہو سکے گی۔بلکہ اندر بیماری کا رہنا زیادہ خطرناک ہوتا ہے باہر کا تپ اگر ٹوٹ جائے اور اندر رہنے لگے تو وہ رسل کا رنگ اختیار کرلیتا ہے۔پس بیرونی مخالفت کو چھوڑ دو وہ خود بخود مٹ جائے گی۔تم اندرونی مخالفت کو مٹانے کی طرف توجہ کرو۔وہ اندرونی مخالفت جس کا موجود رہنا خدا تعالی کے فضلوں سے جماعت کو محروم کردیتا ہے۔میں نے پہلے بھی جماعت کو توجہ دلائی تھی، اب پھر کہتا ہوں کہ منافقین کو ظاہر کرو۔اگر اب بھی آپ لوگ توجہ نہیں کریں گے تو میں خدا تعالیٰ کے حضور بری الذمہ ہوں گا۔اور اس صورت میں اگر آپ پر کوئی عذاب یا تکلیف آئے تو اس کی ذمہ داری مجھ نہیں بلکہ آپ لوگوں پر ہی ہوگی کیونکہ میں نے تو جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔عہد کو آپ لوگوں نے تو ڑا ہوگا اور اسی نقض عمد کی وجہ سے آپ دکھ اور تکلیف میں مبتلاء ہوں گے۔الفضل ۵ اگست ۱۹۳۴ء) پیدائش باب ۱۷ آیت ۹ تا ۲۱ (مفهوماً) له بخاری کتاب الزكوة باب لاصدقة إلا عن ظهر غنّى سے سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب الحكم فيمن ارتد سے اس کا نام بھی عبداللہ تھا۔(مرتب) ه ترمذی ابواب التفسير تفسير سورة المتفقون