خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 210

خطبات محمود ۲۱۰ سال ۱۹۳۴ء یا رَسُولَ اللہ ! آپ نے اگر ذرا آنکھ سے اشارہ کر دیا ہوتا تو ہم فلاں دشمن کا سر اُڑا دیتے۔ آپ نے فرمایا نبی کا کام آنکھ سے اشارہ کرنا نہیں ہے ۔ اسی طرح میرا یہ کام نہیں کہ میں ان باتوں میں دخل دوں۔ ہاں آپ لوگ اگر ان کے متعلق جو منافقانہ رویہ رکھتے ہیں اور نقصان پہنچا رہے ہیں، ثبوت بہم پہنچائیں تو پھر خدا تعالیٰ نے جو اختیارات مجھے دیئے ہیں ان کو میں استعمال میں لاؤں گا۔ ان منافقوں کو صرف میں ہی نہیں جانتا اور بھی بیسیوں لوگ جانتے ہیں۔ کسی کو ایک منافق کا علم ہوگا کسی کو دو کا کسی کو زیادہ کا۔ ایک دفعہ ایک مجلس میں ذکر ہوا کہ فلاں شخص نے آپ کی بہت تعریف کی ہے اور ایک اور شخص جو اس مجلس میں بیٹھا تھا کہنے لگا اگر اس نے اتنی تعریف کی ہے تو ضرور اس نے کوئی نہ کوئی منافقت کا کام کیا ہوگا کیونکہ منافقین کا طریق ہے کہ جب وہ کوئی مجرم کرتے ہیں تو ساتھ ہی ایسا طریق بھی اختیار کر لیتے ہیں جس سے معلوم ہو کہ وہ بڑے مخلص ہیں۔ اس وقت مجھے معلوم ہوا صرف میں ہی نہیں بلکہ بعض دوسرے دوست بھی ایسے لوگوں کو جانتے ہیں۔ مگر اس مجلس کے بعد نہ تو اس دوست نے اور نہ کسی اور نے اس بارے میں میری مدد کی کہ اس کے خلاف ثبوت بہم پہنچاتے۔ میں سمجھتا ہوں بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس قسم کے ثبوت بہم پہنچانے رحم کے خلاف ہیں حالانکہ یہ جذبۂ رحم کا غلط استعمال ہے اور یہ بھی جانی قربانی سے انحراف ہے کیونکہ ایک دوست سے علیحدگی طبعاً ناگوار گزرتی ہے اس لئے انسان یہ نہیں چاہتا کہ اپنے واقف کے خلاف کوئی ثبوت مہیا کر کے اس سے بگاڑ پیدا کرے مگر یہ مؤمنانہ طریق نہیں۔ صحابہ " کا نمونہ دیکھو انہوں نے بیوی بچوں، دوستوں، عزیز واقارب اور رشتہ داروں کو خدا تعالی کیلئے ترک کر دیا یہاں تک کہ عبداللہ بن ابی بن سلول نے ایک دفعہ رسول کریم ال کے متعلق کہا کہ مدینہ کا سب سے زیادہ معزز آدمی وہاں کے سب سے زیادہ ذلیل آدمی کو نکال دے گا۔ قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر آتا ہے۔ معزز سے مراد اس کم بخت کا اپنا وجود تھا اور ذلیل سے اس نے رسول کریم اللہ مراد لئے اور کہا کہ مدینہ پہنچ کر میں جو معزز ترین آدمی ہوں، محمد اللہ کو نکال دوں گا۔ یہ بات جب پھیل گئی تو عبداللہ بن ابی بن سلول کا لڑکا ہے آنحضرت اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور کہنے لگا سنا ہے میرے باپ نے ایسی ایسی بات کی ہے۔ اس کی سزا سوائے قتل کے اور کیا ہو سکتی ہے۔ میں عرض کرنے آیا ہوں کہ اسے قتل کرنا ہو تو یہ کام میرے سپرد کیا جائے تاکہ اگر کوئی اور شخص اسے مارے