خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 197

خطبات محمود 194 سال ۱۹۳۴ء جنگ اُحد میں رسول کریم اللہ نے دس آدمیوں کو ایک درہ پر متعین فرمایا اور حکم دیا کہ خواہ کچھ ہو، باقی فوج مرے یا جیئے، ہارے یا جیتے تم یہاں سے ہرگز نہ ہلنا مگر جب کفار کو شکست ہوئی اور وہ بھاگے تو درہ پر مقرر کردہ آدمیوں نے خیال کیا کہ اب ہمیں بھی کچھ لڑائی میں حصہ لینا چاہئیے۔ ان کے افسر نے کہا کہ ہمیں ہر حال میں یہیں رہنے کا حکم ہے مگر باقیوں نے کہا کہ عقل کی بات کرو رسول کریم اس کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ اس درہ کی حفاظت کی جائے مگر اب کہ دشمن بھاگ چکا ہے اس کی حفاظت کی کیا ضرورت ہے۔ اس افسر نے اور ایک ساتھی نے تو جانے سے انکار کر دیا لیکن باقی آٹھ بھاگ کر لڑائی میں شامل ہوئے۔ خالد بن ولید نے جو اُس وقت مسلمان نہ ہوئے تھے مڑ کر دیکھا تو درہ کو خالی پایا۔ انہوں نے اپنی بھاگتی ہوئی فوج میں سے ایک دستہ جمع کرکے اس پر حملہ کردیا۔ دو صحابی جو وہاں موجود تھے وہ تو ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور کفار نے مسلمانوں کے عقب سے ایسا حملہ کیا کہ وہ ٹھہر نہ سکے ہے۔ حتی کہ رسول کریم اس کے گرد ایک وقت میں بارہ اور دوسرے وقت میں صرف چھ آدمی رہ گئے۔ آپ کے دندان مبارک میں سے بعض صدمات سے ٹوٹ گئے اور آپ بہوش ہو کر گر گئے اور لاشوں کے نیچے دب گئے۔ اور خیال کر لیا گیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں ہے ۔ تو کام کرنے میں ایک چھوٹی سے غلطی اور غفلت سے کس قدر نقصان اُٹھانا پڑا۔ اللہ تعالیٰ اپنی خاص تائید سے آپ کی نصرت نہ کرتا تو ایسے ہزاروں دشمنوں میں جو خون کے پیاسے اور مار دینے کی قسمیں کھا کر آئے ہوں، ایک بیہوش پڑا ہوا انسان کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے۔ اتنے دشمنوں کے سامنے تو ہوش میں جو انسان ہو وہ بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ چہ جائیکہ ایک بیہوش پڑا ہوا انسان اپنی حفاظت کر سکے۔ پس یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ آپ محفوظ رہے۔ آپ پر صحابہ کی لاشیں گر گئیں اور اُس وقت اگرچہ آپ کو تکلیف تو ضرور پہنچی مگر یہی آپ کی حفاظت کا ذریعہ ہو گیا۔ دیکھو غفلت اور فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی کسی قدر قباحتوں اور نقصانات کا موجب ہوئی۔ اگر وہ لوگ پچاس ہزار روپیہ بھی کھا لیتے تو ان کی یہ حرکت اس قدر خطرناک نہ ہوتی جتنی یہ حرکت ہوئی۔ پس ہمارے اندر یہ احساس ہونا چاہئیے کہ کام چور، دھو ک باز یا کام میں بد دیانتی کرنے والا روپیہ کی چوری کرنے والے سے بہت زیادہ خطرناک ہے۔ اس کی اصلاح کرنی چاہیے اور جو اصلاح پذیر نہ ہو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ اور ایسی فضاء پیدا کر دینی چاہیئے کہ ایک احمدی کے پاس دس کروڑ روپیہ کی امانت رکھنے میں بھی