خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 14

خطبات محمود اله سال ۱۹۳۴ء بلکہ اس سے بھی زیادہ مرتبہ لیلۃ القدر آخری عشرہ میں آتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا تجربہ بھی اسی امر کی تائید کرتا ہے اور مزید بر آن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تجربه امر بھی ثابت ہے کہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے بالعموم یہ رات ستائیس ستا تاریخ کو آتی ہے۔ اس لحاظ سے اب کی دفعہ لیلۃ القدر جس کا زیادہ امکان ہو سکتا ہے، اس جمعہ سے یہ امر کے بعد آنے والی ہے۔ بعض صحابہ کے تجربہ اور صوفیاء کے تجربہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس رات آسمان پر ایسی باتیں ظاہر ہوتی ہیں جو غیر معمولی ہوں۔ بعض دفعہ غیر معمولی ترشح ہوتا ہے اور بعض دفعہ آسمان پر غیر معمولی روشنی دکھائی دیتی ہے۔ مگر بالکل ممکن ہے کہ یہ روحانی امور ہوں کیونکہ ان کے دیکھنے والے منفرد ہوتے ہیں۔ اگر جسمانی رنگ میں یہ امور ظاہر ہوتے تو ان کو دیکھنے والے بہت سے ہوتے۔ پس بالکل ممکن ہے یہ کشفی نظارہ ہو اور خدا تعالی یہ بتانا چاہتا ہو کہ آج کی رات ہی لیلۃ القدر ہے۔ چاند کے متعلق چونکہ بالعموم شبہ رہتا ہے اور یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ وقت پر دیکھا گیا ہے یا بعد میں۔ اور بعض دفعہ لوگوں کی شہادتیں بھی مشتبہ ہو جاتی ہیں اس لئے چھیں اور ستائیں دو راتیں خصوصیت سے اہم ہوتی ہیں۔ اگر چاند کے متعلق کسی قسم کا شبہ ہو تو بعض دفعہ دھوکا لگ سکتا ہے اور انسان جب یہ خیال کر رہا ہوتا ہے کہ آج ۲۶ تاریخ ہے، دراصل ۲۷ تاریخ ہوتی ہے اس لئے ۲۶ اور ۲۷ دونوں راتوں میں خصوصیت سے عبادت کرنی اور اللہ تعالی سے دعائیں مانگنی چاہئیں۔ مگر جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے رمضان کی ساری راتیں ہی مبارک ہوتی ہیں کیونکہ اس مہینہ کو اللہ تعالی نے قرآن کریم کے نزول کیلئے مچنا۔ پس سارے رمضان میں ہی لیکن خصوصیت سے آخری عشرہ میں قرآن کریم بہت پڑھنا چاہیے، ذکر الہی پر زور دینا چاہئیے اور اللہ تعالی سے دعائیں مانگنی چاہئیں۔ ہماری جماعت جو روحانی جماعت ہے اور جس کے سپرد ایک ایسا کام کیا گیا ہے جو انسانی ہاتھوں سے ہونا ناممکن ہے، اس کیلئے تو بہت ہی ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالٰی سے دعائیں کرے کیونکہ ہمارے پاس کامیابی کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ دعا ہے۔ یہ دن چونکہ دعاؤں کی قبولیت کے ہیں اس لئے اب جبکہ ہم آخری عشرہ میں سے گزر رہے ہیں اور جبکہ وہ رات جو لیلۃ القدر کہلاتی ہے آنے والی ہے، میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دعاؤں پر زور دے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ افطاری کا وقت قبولیت دعا کا ہوتا ہے ہے ۔ اسی طرح