خطبات محمود (جلد 15) — Page 190
خطبات محمود ۱۹۰ سال ۱۹۳۴ء ایک عارضی چیز ہے حقیقی زینت وہی ہے جو خدا کی طرف سے ملتی ہے اور حقیقی زندگی وہی ہے جو موت کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ ممکن ہے ان دونوں اصول کا غلط مفہوم بعض لوگوں کی ٹھوکر کا موجب ہو۔ مجھے نہایت افسوس ہے کہ بعض افراد جماعت میں عملی دیانت کا ثبوت بہت کم ملتا ہے۔ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ مومن دوسروں سے زیادہ محنتی، زیادہ وفادار زیادہ جفاکش اور زیادہ لائق ہوتا ہے مگر بعض احمدیوں کی زندگی میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں مومن زیادہ نکما، زیادہ ناکارہ زیادہ کام چور اور زیادہ غافل ہوتا ہے۔ شاید بعض خیال کرتے ہوں کہ برادرانہ کام ہے اس لئے اسے توجہ اور محنت سے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یعنی بجائے اس کے کہ اپنے بھائی کا کام سمجھ کر اسے زیادہ کوشش اور زیادہ محنت سے کرتے وہ اس کے متعلق سخت لاپروائی کرتے ہیں۔ گویا برادری کے اچھے معنوں کا بُرا مطلب لے لیتے ہیں اور خیال کر لیتے ہیں کہ اپنے بھائی کا کام ہی ہے اگر خراب ہو گیا تو کیا کسی غیر کا تو نہیں ہے اور برادری کا یہ غلط مفہوم لے لیتے ہیں حالانکہ یہ خیال دل کی بیماری سے پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً کسی نے معمار سے کوئی عمارت بنوائی ہے۔ اب اس اصول سے جو ہم پیش کرتے ہیں کہ دنیا کی زینت کوئی چیز نہیں، معمار اگر یہ خیال کرلے کہ یہ مکان کل ہی ٹوٹ جائے تو کیا حرج ہے، تو یہ ایک اعلیٰ درجہ کی تعلیم کے بڑے معنے ہوں گے۔ اسی طرح وہ اپنی بدی کو نیکی کا پیرا یہ دے گا اور بہت سے لوگوں کی ٹھوکر کا موجب بن جائے گا حالانکہ حقیقی برادری کا اقتضاء حقیقی ہمدردی ہوتا ہے۔ قادیان کے متعلق مجھے شکایات پہنچتی رہتی ہیں کہ بعض پیشہ ور لوگ دیانت سے کام نہیں لیتے حالانکہ میں مختلف رنگوں میں نصیحت کرتا رہتا ہوں لیکن اسی دوران میں خود مجھے بھی ایک تجربہ اس کے متعلق ہو گیا۔ میں نے ایک مکان بنوایا۔ بعض احمدی معماروں نے میرے پاس شکایت کی کہ مکان بنوانے والوں نے غیر احمدیوں کو کام دے رکھا ہے حالانکہ ہم ان سے اچھا کر سکتے ہیں اور چونکہ میرا اصول یہی ہے کہ اگر احمدی کام کرنے والے مل سکیں تو انہیں کام دینا چاہئیے میں نے اس کی تحقیقات کرائی تو معلوم ہوا کہ ان کی شکایت صحیح نہیں۔ نوے فیصدی احمدی اور صرف دس فیصدی غیر احمدی تھے اور یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ ہم نے کسی کا بائیکاٹ تو کر نہیں رکھا۔ ہر دیانتدار اور اچھا کام کرنے والے کو موقع دیتے ہیں۔ بہر حال میں نے ہدایت کی کہ آئندہ ان معترض لوگوں کو بھی موقع دیا جائے لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ ابھی وہ لوگ عمارت کا کام ختم کر کے نکلے بھی نہ تھے کہ اس کا پلستر گر گیا۔ اور