خطبات محمود (جلد 15) — Page 185
خطبات محمود ۱۸۵ سال ۱۹۳۴ء ہو گیا اور اس نے اپنے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹھنے کیلئے کرسی بچھادی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس پر بیٹھ گئے۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو آیا ہی اسی لئے تھا کہ آپ کو ذلت کی حالت میں دیکھے، اس نے جب دیکھا کہ آپ کرسی پر پر بیٹھے ہوئے ہیں تو برداشت نہ کرتے ہوئے اس نے کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر سے سوال کیا کہ مجھے بھی کرسی دی جائے۔ اس نے یہ خیال کیا کہ جب مجرم کیلئے کرسی بچھائی جاتی ہے تو گواہ کو کیوں کرسی نہیں ملے گی۔ مگر کپتان ڈگلس نے جب یہ بات سنی تو اسے سخت غصہ آیا اور اس نے غضبناک ہو کر کہا تجھے کرسی نہیں ملے گی۔ مولوی محمد حسین صاحب نے کہا میرے باپ کو لاٹ صاحب کے دربار میں کرسی ملا کرتی تھی، مجھے بھی کر سی دی جائے۔ میں اہلحدیث کا ایڈووکیٹ ہوں اور میرا حق ہے کہ مجھے کرسی ملے۔ تب کپتان ڈگلس نے کہا۔ بک بک مت کر پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہو جا۔ اب بجائے اس کے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تذلیل دیکھتا خدا تعالی نے اسے ذلیل کر دیا۔ پھر یہ تو کمرہ کے اندر کا واقعہ تھا جب مولوی صاحب باہر نکلے تو لوگوں کو یہ دکھانے کیلئے کہ گویا اندر بھی انہیں کری ملی ہے، برآمدے میں ایک کرسی پڑی تھی اس پر بیٹھ گئے لیکن چونکہ نوکر وہی کچھ کرتے ہیں جو وہ اپنے آقا کو کرتے دیکھتے ہیں۔ چپڑاسی نے جب دیکھا کہ مولوی صاحب کو اندر تو کرسی نہیں ملی اور اب برآمدے میں کرسی پر آبیٹھے ہیں۔ اسے خیال آیا کہ اگر صاحب بہادر نے دیکھ لیا تو وہ مجھ پر ناراض ہو گا۔ وہ دوڑا دوڑا آیا اور کہنے لگا آپ کو یہاں پر بیٹھنے کا حق نہیں ، اُٹھ جائیے۔ اس طرح باہر کے لوگوں نے بھی دیکھ لیا کہ مولوی صاحب کی عدالت میں کتنی عزت ہوئی۔ مولوی صاحب اس پر غصہ میں جل بجھن کر آگے بڑھے تو کسی شخص نے زمین پر چادر بچھائی ہوئی تھی، اس پر بیٹھ گئے مگر اتفاق کی بات ہے چادر والا بھی جھٹ آپہنچا اور کہنے لگا میری چادر چھوڑ دو یہ تمہارے بیٹھنے سے پلید ہوتی ہے کیونکہ تم ایک مسلمان کے خلاف عیسائیوں کی طرف سے عدالت میں گواہی دینے آئے ہو۔ تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نصرت آتی ہے تو کوئی شخص اسے روک نہیں سکتا۔ پولیس کے افسر اور سپاہی کیا بڑے سے بڑے آدمی کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اور ایک سیکنڈ میں اللہ تعالی دشمنوں کو ہلاک کر سکتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے حضور جھکو اور اس سے دعائیں کروں۔ ہاں مومنوں کیلئے ابتلاؤں کا آنا بھی مقدر ہوتا ہے۔ سو اگر صبر سے کام لو گے اور