خطبات محمود (جلد 15) — Page 184
خطبات محمود ۱۸۴ سال ۱۹۳۴ء صدق سے کام لے، صدق سے کام لے، صدق سے کام لے۔ قرآن کریم نے اس قسم کے حالات میں دو اور صاد بھی بتائے ہیں ان سے بھی کام لیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے۔ اِسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ لا یعنی اے لوگو! صبر اور صلوٰۃ سے استعانت چاہو۔ پس ایسے لوگوں کو چاہیے کہ روزے رکھیں اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں، نمازیں پڑھیں اور خدا تعالی سے دعائیں کریں کیونکہ خدا تعالیٰ کے سامنے جب انسان جھکتا ہے تو اس کیلئے غیب سے سہولت کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔ پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارے لئے اس وقت کیا کیا مشکلات ہیں۔ ہمارے لئے مشکلات یہ ہیں کہ ہمارے مقابل پر جھوٹ بولنے والا دشمن کھڑا ہے گورنمنٹ کے بعض حکام بھی اس کی پیٹھ بھرتے ہیں مگر کیا تم سمجھتے ہو ان لوگوں کی خدا تعالیٰ کے سامنے کوئی ہستی ہے۔ کتنا بڑے سے بڑا کوئی دشمن ہو اگر رات کو اسے قولنج کا درد ہو جائے یا ہیضہ کے کیڑے اس کے پیٹ میں گھس جائیں اور وہ ایک ہی رات میں چل ہے تو کیا گورنمنٹ انگریزی کے سارے ڈاکٹر مل کر بھی اسے زندہ کر سکتے ہیں۔ گورنمنٹ اپنی توپوں کے ساتھ توپوں کا مقابلہ کر سکتی ہے، بیڑوں کا بیڑوں کے ساتھ مقابلہ کر سکتی ہے مگر وہ ہیضہ کے کیڑوں اور طاعون کی گلٹیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ پھر اللہ تعالی کی طرف سے بعض دفعہ یوں بھی عذاب نازل ہو جاتا ہے کہ افسر ناراض ہو جاتے اور ان پر ماتحت کی بد دیانتی کھل جاتی ہے۔ بالکل ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو جائے اور جس کھونٹے پر وہ ناچ رہے ہیں وہی کھونٹا ان کی رسوائی کا موجب بن جائے۔ پس دنیا کی مخالفتیں کوئی چیز نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بھی لوگوں نے سازشیں کیں اور قتل کے مقدمات دائر کئے مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ مخالفین کو اپنے مقاصد میں نامراد رکھا۔ ایسے ہی اقدام قتل کے ایک مقدمہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف عدالت میں گواہی دینے کیلئے آیا اور اس امید پر آیا کہ مرزا صاحب کو ہتھکڑی لگی ہوئی ہوگی یا ہتھکڑی اگر نہ لگی ہوگی تو عدالت میں (نَعُوذُ بِاللهِ) ذلیل حالت میں کھڑے ہوں گے مگر باوجود اس کے کہ وہ انگریز ڈپٹی کمشنر جس کے سامنے مقدمہ پیش تھا ہمارے سلسلہ کا سخت مخالف تھا اور اس نے ضلع میں تعینات ہوتے ہی کہا تھا کہ یہ شخص جو ہمارے یسوع مسیح کی ہتک کرتا ہے اب تک بچا ہوا ہے اسے سزا کیوں نہیں دی جاتی مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے سامنے پیش ہوئے تو اللہ تعالی نے ایسا تصرف کیا کہ آپ کی شکل دیکھتے ہی اس کا بغض دور