خطبات محمود (جلد 15) — Page 169
خطبات محمود ۱۶۹ مومن کو ہمیشہ عقل و فکر اور شعور سے کام لینا چاہیے فرموده ۸ - جون ۱۹۳۴ء) سال ۴۱۹۳۴ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- ایمان اور عقل و فکر اور شعور، یہ ایسی لازم و ملزوم باتیں ہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے مجدا کیا ہی نہیں جاسکتا۔ ایمان کے ساتھ ہی انسان کو عقل اور شعور و فکر کا ایسا درجہ حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ درجہ دوسروں کو نہیں حاصل ہو سکتا کیونکہ عقل و فکر اور شعور وہ قوتیں ہیں جو اپنی ہدایت اور رو روشنی کیلئے نور کی محتاج ہیں اور یہ نور ایمان سے وابستہ ہوتا ہے۔ فطرت صحیحہ کے ساتھ بھی بیشک اس کا تعلق ہوتا ہے اور اس لئے کافر بھی اس سے حصہ پاتے ہیں مگر مومن ضرور حصہ پاتے ہیں۔ ممکن ہے ایک شخص کافر ہو مگر ساتھ ہی عقل و شعور اور فکر سے کام لینے والا ہو لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ایک کافر ہو اور عقلمند نہ ہو، و شعور اور فکر لیکن یہ ممکن نہیں کہ سچا مومن ہو اور عقلمند، صاحب شعور اور سے کام کام لینے والا نہ ہو صاحبِ فکر نہ : نہ ہو۔ کپس ایمان کے ساتھ شعور اور فکر اور عقل اور تفقہ کو ایک گہری وابستگی ہے۔ گو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایمان عقل اور شعور کا نام ہے لیکن یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ چیزیں ایمان سے جدا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ انبیاء مبعوث کرتا ہے تو ان کے ذریعہ جو جماعتیں قائم ہوتی ہیں، وہ ہر میدان میں دوسروں سے آگے بڑھ جاتی ہیں کیونکہ ایمان کے ساتھ ہی خاص عقل پیدا ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو ایسے مربی عطا کرتا ہے