خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 140

خطبات محمود سال ۳۴۲ معده جائے کیونکہ آجکل فضول خرچیوں کے اس قدر دروازے کھل چکے ہیں کہ اگر دس کروڑ روپیہ آمدنی ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہیں بچ سکتا حالانکہ اس آیت کے بعض نے یہ بھی معنی کئے ہیں کہ جتنا بچ سکے وہ خدا کی راہ میں دو۔یہ نہیں کہ فضول خرچیاں کرتے چلے جاؤ اور پھر کہو اس کے بعد جو بچ رہے گا وہ دیں گے۔فضول خرچی کے بعد روپیہ نے کیا بچتا ہے اور آجکل تو روپیہ خرچ ہونے کے اتنے طریق نکل آئے ہیں کہ بچنے کی امید ہی نہیں ہو سکتی۔دنیا میں بھی ہم دیکھتے ہیں جب ڈاکٹر کسی مریض سے کہتا ہے کہ غذا کم کرو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اتنی کم کرو کہ فاقہ کر کر کے معدہ خراب کرلو بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ پر بوجھ نہ ڈالو۔پس جسب میں یہ کہتا ہوں کہ اپنے اعمال میں استقامت پیدا کرو تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ایسے اعمال اپنے ذمہ ڈالو جو کر سکتے ہو۔یہ مطلب نہیں کہ اپنی طاقت سے بھی عمل کرو اور دلیل یہ دو کہ چونکہ مداومت اختیار کرنی ہے اس لئے تھوڑے سے تھوڑا کام اپنے ذمہ لینا چاہیئے۔ایک پیاسے کو پانی کا ایک قطرہ فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور اگر ایک لوٹا بھر کر اُسے پلا دیا جائے تو وہ بھی اس کے معدے کو ضعف پہنچائے گا۔پس افراط اور تفریط دونوں راہوں سے بچو۔جن لوگوں نے تبلیغ کے سلسلہ میں اپنے اپنے ذمہ کام لیا ہے، وہ نہ تو اتنا کام لیں جو ان کی طاقت برداشت سے باہر ہے اور نہ اتنا کم لیں کہ طاقت ان میں اس سے زیادہ ہو ورنہ اس صورت میں بھی ان کے دلوں پر زنگ لگ جائے گا۔میں سمجھتا ہوں اس طریق پر غور کرکے اور سوچ سمجھ کر اگر جماعت کے لوگ کام کریں گے تو تھوڑے ہی دنوں میں اس کے خوشگوار نتائج نکلنے شروع ہو جائیں گے اور چونکہ کام کرنے کے نتیجہ میں ایک عادت بھی ہو جائے گی اس لئے کام آسان دکھائی دے گا۔و تبلیغ کے سلسلہ میں بعض لوگ یہ بھی عذر پیش کردیا کرتے ہیں کہ ہمیں وقت نہیں ملتا حالانکہ اگر ان کے وقت کا جائزہ لیا جائے، تو دودو گھنٹے وہ دوستوں کے ساتھ بکواس پر ضائع کر دیتے ہیں۔میں ایسے لوگوں کی لسٹ بتا سکتا ہوں جن کے متعلق مجھے معلوم ہے کہ جب میں یہاں پہنچوں وہ فوراً میرے ملنے کیلئے پہنچ جاتے ہیں حالانکہ بیوی بچے ان کے بھی ہوتے ہیں، وہ بھی ملازم پیشہ یا تاجر ہوتے ہیں، انہیں بھی ضرورتیں لاحق ہوتی ہیں مگر وہ ضرور پہنچ جائیں گے ، ملیں گے دعا کیلئے تحریک کریں گے یا اور کوئی ضروری بات ہو تو وہ دریافت کریں گے۔پس در حقیقت انسان اپنے نفس کیلئے بہانے بھی تلاش کر سکتا ہے اور نفس پر بوجھ بھی ڈال سکتا ہے