خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 127

خطبات محمود ۱۲۷ ۱۵ سال ۱۹۳۴ تربیت کا صحیح طریق تبلیغ ہی ہے فرموده ۲۰ اپریل ۱۹۳۴ء بمقام لاہور) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- جس قدر انبیاء اور مامورین دنیا میں آتے ہیں ان کا سب سے پہلا کام تبلیغ ہوتا ہے اور تبلیغ کے ذریعہ جو لوگ سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں، ان کی وہ علمی اور عملی تربیت بھی کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی تبلیغ تربیت نفس کا پہلو بھی اپنے اندر رکھتی ہے اور وہ ایسے دلائل اختیار کرتے ہیں جو مذہب کی صداقت کے ثبوت کے ساتھ ساتھ اصلاح نفس بھی کرتے جاتے ہیں اور جب کوئی شخص اس مذہب کی حقیقت معلوم کر کے اس میں داخل ہوتا ہے تو ساتھ ہی اس کے نفس کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھتے ہیں تو عیسائیوں ، ہندوؤں ، غیر احمدیوں سکھوں، یہودیوں غرض ہر قوم کو آپ نے مخاطب کیا اور تبلیغ کی لیکن وہ طریق جو آپ سے پہلے رائج تھا، اسے چھوڑ دیا۔آپ کی کتابوں اور ڈائریوں کے پڑھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر تبلیغی روح کی جو کمی تھی آپ نے اس میں جوش نہیں پیدا کیا۔اس کسی مامور کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔کوئی جو شیلا شخص اٹھتا ہے اور مردہ قوم کے دلوں میں جوش پیدا کر دیتا ہے۔آپ نے طرز تبلیغ کو بدل دیا ہے۔آپ بھی دعوی سے پہلے اُسی پرانے رنگ کی اتباع کرتے تھے۔چنانچہ سُرمہ چشم آریہ میں بحث کی بنیاد اگرچہ ایک حد تک مختلف ہے مگر تھوڑی سی ترمیم اور غلطیوں کو دور کرنے کے بعد حقیقتاً پہلے ہی رنگ کو اختیار کیا گیا