خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 101

خطبات محمود ١٠١ سال ۱۹۳۴ء ذریعہ اس مضمون کو احباب کے سامنے لاتا رہوں گا اس کے بعد دیکھوں گا کہ کتنے لوگوں نے اصلاح کیلئے حقیقی جدوجہد کی ہے اور پھر جن کے متعلق دیکھوں گا کہ انہوں نے صحیح معنوں میں اصلاح کی کوشش کی ہے، انہیں منتخب کرلوں گا اور باقی کو چھوڑ دوں گا۔ پس ابھی یہ نام لکھے جا رہے ہیں جو قبول نہیں ہوئے، قبول اُس وقت ہوں گے جب سال بھر کے بعد دیکھوں گا کہ نام دینے والوں نے اپنی یا احباب جماعت کی اصلاح میں کتنی کوشش کی ہے۔ ایسے نام دینے والوں میں بعض نمائشی ہوتے ہیں وہ صرف اس لئے لکھا دیتے ہیں کہ اخبار میں شائع ہو جائے گا اور لوگ سمجھیں گے کہ یہ بھی شامل ہیں۔ ایسے بھی دوچار در جن لوگ ہماری جماعت میں ہیں۔ کوئی تحریک ہو جھٹ نام لکھا دیں گے مگر کرتے کراتے کچھ بھی نہیں اور اس تحریک میں نام لکھانے والوں میں بھی کچھ ایسے ہوں گے۔ پھر کچھ ایسے ہوں گے جو اس کام کی اہمیت کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ وہ اگرچہ نیک نیتی سے نام لکھاتے ہیں مگر ان کی دماغی قابلیت یا میلان طبع اس کے قابل نہیں۔ پس میں سال بھر کے تجربہ کے بعد اندازہ کروں گا کہ کون اس کے اہل ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ دوست مجھے اپنے کاموں اور کوششوں کے نتائج سے آگاہ کرتے رہا کریں اس کے بعد جب میں دیکھ لوں گا کہ کن لوگوں میں اس کام کی اہلیت ہے۔ پھر انہیں موقع دوں گا کہ زیادہ منظم صورت میں اور باہم تعاون کے ساتھ جماعت کی اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں۔ فی الحال آج میں سورۃ فاتحہ میں سے ایک مضمون جو سالک کے مسلک کو ظاہر کرتا ہے، بیان کر دیتا ہوں۔ اس سورۃ میں اللہ تعالی کی چار صفات بیان کی گئی ہیں۔ رَبُّ الْعَلَمِينَ - رَحْمَن رَحِیم اور مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ دوسری جگہ اللہ تعالی نے اپنے عرش کے متعلق بیان فرمایا ہے کہ اسے ایسے وجود اُٹھائے ہوئے ہیں جو صفاتِ الہیہ کے حامل ہوتے ہیں۔ اور اس دنیا میں دراصل صفات الہیہ کے چار حامل ہیں۔ اور اگلے جہاں میں جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے، ہوتا ہے، آٹھ ہوں گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہے کہ عرش صفات تنزیمیه کا نام ہے۔ اور چونکہ صفات تشبیہیں ان کے تابع ہوتی ہیں، اس لئے وہ ان کی حامل ہوتی ہیں۔ صفات تشبییه سے صفات تنزیمیہ کا ظہور ہوتا ہے وگرنہ دنیا سے ان کا تعلق نہیں۔ اللہ تعالی کی صفت رَبُّ الْعَلَمِينَ ہے مگر اس صفت کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی مخلوق ہو۔ اسی طرح اس کی ایک صفت رحمانیت ہے وہ بھی چاہتی ہے کہ کوئی مخلوق ہو۔ صفت رحیمیت بدلہ چاہتی ہے اور وہ