خطبات محمود (جلد 15) — Page 61
خطبات محمود 41 سال ۱۹۳۴ء کرنے کا عادی ہے۔اور اگر کبھی کوئی شخص ہمت کر کے اسے کہہ دے کہ یہ بات یوں نہیں بلکہ یوں ہوئی تھی ممکن ہے اس میں میری غلطی ہو لیکن مجھ پر اثر یہی ہے کہ آپ بات کرتے وقت بہت مبالغہ سے کام لیتے ہیں تو کئی لوگوں کی اصلاح ہو سکتی ہے۔مبالغہ جھوٹ کا پہلا قدم ہوتا ہے اس لئے یہ عیب بھی دور کرنے کے لائق ہے۔اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے دوسرے کا عیب اس رنگ میں بیان کیا جائے کہ اسے محسوس ہو کہ میری تذلیل نہیں کی جارہی بلکہ خیر خواہی سے مجھے ایک بات کہی جارہی ہے اور اس عیب کا بیان کرنا خود اس کیلئے شرمندگی کا باعث ہو رہا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ میں عیب بیان کرکے اپنے آپ کو دکھ پہنچا رہا ہوں۔ایسی حالت میں اگر دوسرا شخص بُرا بھی منائے تو نصیحت کرنے والا خدا تعالیٰ کے حضور گنہگار نہیں ہو گا۔له الحجرات: ١٣ (الفضل یکم مارچ ۱۹۳۴ء)