خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 60

خطبات محمود ۶۰ سال ۱۹۳۴ء کہ شاید طالب علم کی بات میں سچائی پائی جاتی ہو۔لیکن یہ ضروری بات ہے کہ جب کسی کو اس کے عیب سے اطلاع دی جائے تو اس میں اس کی تحقیر مد نظر نہ ہو اور نہ اسے لوگوں میں بدنام کیا جائے بلکہ علیحدگی میں اسے سمجھایا جائے۔اور اگر علیحدگی میں سمجھانے پر بھی وہ بڑا مانے تو پھر اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات آپ کی رائے غلط ہو۔آپ ایک شخص میں کوئی عیب سمجھتے ہوں حالانکہ حقیقت میں وہ عیب اس میں موجود نہ ہو۔مگر چونکہ آپ جو کچھ دوسرے سے کہیں گے خیر خواہی اور نیک نیتی سے کہیں گے فتنہ انگیزی آپ کا مقصد نہیں ہوگا اس لئے آپ کو بھی ثواب ہو جائے گا۔اور اگر دوسرا شخص آپ کی بات سن لے گا تو اس کے لئے بھی مفید ہوگا کیونکہ اگر نقص ہوگا تو اصلاح کرے گا اور اگر نہیں ہو گا تب بھی اس خیال سے استغفار کرے گا کہ شاید مجھے کسی اور قصور کی بناء پر یہ اللہ تعالی کی طرف سے تنبیہہ ہوتی ہے۔یہ طریق ہے جس کے ماتحت سالکین کو کرنا چاہیئے۔اول اپنے نفس کا آپ محاسبہ کریں اور پھر دوسروں کی رائے سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں۔مگر اس بارے میں یہ امر یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ کسی انسان کے عام اس حالات دیکھ کر نیک نیتی سے جو رائے پیدا ہو جائے وہ بیان کرنی چاہیئے۔تجنس اسلام میں سخت منع ہے اے۔جو نقص آپ ہی آپ سامنے آجائے، تو اس کے متعلق محبت اور پیار سے دوسرے کو سمجھایا جائے اور کہہ دیا جائے کہ مجھے آپ میں یہ نقص نظر آیا ہے۔ممکن ہے اس میں میری غلطی ہو مگر چونکہ میرا اخلاقی فرض تھا کہ آپ کو بتا دیتا لئے آپ تک میں یہ اطلاع پہنچاتا ہوں بدنیتی سے نہیں بلکہ نیک نیتی اور اخلاص سے میں یہ بات کہہ رہا ہوں۔ہر انسان میں کمزوریاں ہوتی ہیں اور اپنے متعلق بھی مجھے یقین ہے کہ مجھ میں بیسیوں قسم کی کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور میں انہیں دور کرنے کی کوشش بھی کرتا ہوں لیکن آپ کے متعلق میرے دل میں یہ احساس ہے کہ آپ میں فلاں نقص ہے ممکن ہے یہ غلط ہو لیکن اگر اس میں کسی حد تک صحت پائی جاتی ہو تو مجھے توقع ہے کہ آپ اسے دور کرنے کی کوشش کریں گے۔میں نے دیکھا ہے بیسیوں آدمی مبالغہ کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔وہ جب بھی بات کرتے ہیں اصل واقعہ سے بہت بڑھا کر بیان کرتے ہیں لیکن آجکل چونکہ یہ رواج ہوچکا ہے کہ جب کوئی شخص بات کرے تو اسے خاموشی سے سن لیا جائے، اس لئے کوئی انہیں نہیں روکتا حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ فلاں اپنی باتوں میں مبالغہ