خطبات محمود (جلد 15) — Page 58
خطبات محمود ۵۸ سال ۱۹۳۴ء سے ہوتی ہے نہ کہ ایک مقام پر ٹھرے رہنے سے۔میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کے بعض احباب بھی اپنی روحانی ترقی میں بجائے قدموں سے اندازہ کرنے کے سالوں سے اندازہ کرتے ہیں۔وہ کہا کرتے ہیں کہ ہمیں دس یا بیس سال گزر گئے مگر ہمیں مزید روحانی ترقی حاصل نہیں ہوئی۔حالانکہ اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے سال ہوگئے بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے سال یا چھ مہینے میں کس قدر روحانی ترقی کے لئے جدوجہد کی۔اگر وہ اس رنگ میں اپنی روحانی ترقی کا اندازہ کرتے رہیں تو انہیں ایک کمال کے بعد دوسرا کمال حاصل ہوتا چلا جائے گا اور اگر نہیں کریں گے تو خواہ کتنے سال گزر جائیں وہ ایک ہی مقام پر کھڑے رہیں گے۔اس غرض کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے یہ تحریک کی تھی کہ دوست سالکین میں نام لکھوائیں۔جس سے میرا یہ مقصد تھا کہ جماعت میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جنہیں روحانیت میں ترقی کرنے کی فکر ہو۔ورنہ یہ مطلب نہیں تھا کہ میں کوئی خاص گر یا وظیفہ بتادوں گا جس کے ماتحت وہ ایک دم روحانی مدارج طے کرلیں گے بلکہ جماعت میں یہ احساس پیدا کرانا مد نظر تھا کہ وہ ترقی کرے اور ترقی بھی طبیعی طریق کے ماتحت ہو مثلاً طبیعی طریق یہ ہے کہ ایک قدم کے بعد دوسرا قدم اُٹھایا جائے۔اور علم میں طبیعی ترقی اس طرح ہوتی ہے کہ ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب پڑھی جائے۔اس طرح اگر کوئی شخص اپنی روحانی اصلاح کرتا اور اس طبعی طریق کو مد نظر رکھتا ہے۔پہلے ایک نقص کو دور کرتا اور جب ) وہ دور ہو جاتا ہے تو دوسرا نقص مٹانے کی کوشش کرتا ہے اور تدریجاً روحانی مقامات کو طے کرتا چلا جاتا ہے تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص بجائے قدم بقدم چلنے کے سالها سال ایک ہی مقام پر ٹھہرا رہے اور خیال کرے کہ کوئی شخص اُسے اُٹھا کر معراج کمال تک پہنچا دے گا تو یہ نہیں ہو سکتا۔پس میرے یہ کہنے کا کہ سالکین میں اپنے نام لکھائے جائیں یہ مطلب تھا کہ احباب اپنے اپنے نقائص کا پتہ لگائیں اور اُن کی اصلاح کریں۔اور نقائص معلوم کرنے کے دو طریق ہوتے ہیں۔اول یہ کہ اپنے نفس کا محاسبہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ میرے اندر کیا کیا نقائص ہیں۔دوسرے اس امر پر غور کیا جائے کہ غیر اس کے متعلق کیا کہتے ہیں۔پھر غیروں میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک منصف مزاج دوسرے غیر منصف، غیر منصف انسان بہت جھوٹ بولتا ہے مگر کبھی اس کی بات میں بھی سچائی ہوتی ہے۔اور منصف مزاج انسان کی بات سے تو بہت کچھ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔باقی اگر صرف اپنی۔