خطبات محمود (جلد 15) — Page 527
خطبات محمود ۵۲۷ سال ۱۹۳۴ء میں نمک زیادہ ہو گیا ہے، اس لئے میاں کیلئے فلاں بھیجا بنالوں، بچہ یہ چیز نہیں کھاتا، اس کیلئے یہ بنالوں، اسی طرح ان کا دن کہتا ہے اور ان کی رات سونے یا بچوں کی خبر گیری میں صرف ہو جاتی ہے۔رسول کریم ﷺ نے بیوی کو مرد کا آدھا دھڑ قرار دیا ہے ہے اور جس کے گھر میں دین نہ ہو، اس کا گویا آدھا دھڑ قیامت کے دن مارا ہوا ہوگا۔جس کی بیوی دین کی طرف توجہ نہین کرتی اور کھانے پینے میں ہی لگی رہتی ہے، وہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے کیا لے کر کھڑا ہو گا۔اللہ تعالی اسے کہے گا کہ تمہارے جسم کو ترقی دینے کیلئے ہم نے جو چیز دی تم نے مفلوج کر دی ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص خود تو نیک ہو مگر بیوی کو نیکی - محروم رکھے، صرف اس لئے کہ کھانا مزیدار پکے تو عورتوں کو دین سے محروم رکھنے کے کئی وہ نقائص ہیں۔رمضان سے فائدہ اٹھانے کیلئے میں نے جو تحریک کی ہے، اس میں زمیندار بھی شامل ہو سکتے ہیں اور یہ ایک ایسی آسان سکیم ہے کہ ان کیلئے مفت کرم داشتن والا معاملہ ہے۔دنیا خواہ ایسی باتوں کو حقیر سمجھے مگر خدا تعالی بڑا نکتہ نواز ہے۔رسول کریم ﷺ ایک مجلس میں یہ بات بیان فرمارہے تھے کہ قیامت کے دن یہ ہو گا اور وہ ہوگا اور میرے لئے اللہ تعالٰی نے خاص درجے رکھے ہیں۔ایک شخص ہے اس وقت کھڑا ہوا اور کہا یا رسول اللہ ! دعا کیجئے میں بھی آپ کے ساتھ رہوں آپ نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہوگا۔اب اس نے کیا قربانی کی تھی۔سوائے اس کے کہ کھڑے ہو کر ایک بات کہہ دی تھی۔اسی مجمع میں کئی ایسے لوگ موجود تھے جن کی قربانیاں اس سے بہت بڑھی ہوئی تھیں مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا یہ شخص خواہش رکھتا ہے اس لئے ہم اس کی خواہش پوری کرتے ہیں۔اس پر ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! میرے لئے بھی دعا کیجئے آپ نے فرمایا بس اب نہیں 2۔تو اللہ تعالی بڑا نکتہ نواز ہے۔اگر ایک شخص پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی ایک حالت وارد ہو مگر جب مطالبہ کیا جائے تو وہ بھی کھڑا ہو کر کہے کہ میں بھی شامل ہوں تو وہ بھی ضرور شامل ہو جاتا ہے۔پس رمضان نے ہمیں زندگی کا صحیح طریق بتایا ہے اور جب کسی قوم پر خاص حالات ہوں تو اس طریق سے اِدھر اُدھر ہونا ہلاکت ہے۔یہ نہیں کہ ہر وقت ہی اچھے کھانے کھانا ناجائز ہے۔جب قوم کے افراد ترقی پر ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن مصیبت کے زمانہ میں ایسا کرنا ہلاکت کا موجب ہوتا ہے۔اور ایسے زمانہ میں ہر فرد قوم سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ قربانی