خطبات محمود (جلد 15) — Page 526
خطبات محمود ۵۲۶ پھر رمضان میں ایک وقت کی بھی برکت ہوتی ہے۔اللہ تعالی کی کوئی عادت تو نہیں مگر اس میں عادت سے مشابہت ضرور ہے۔انسان کی طرح اس کی آنکھیں نہیں مگر وہ بصیر ضرور ہے، اس کے کان نہیں مگر سمیع ہے، وہ کھاتا پیتا نہیں مگر کھانے سے اسے مشابہت ضرور ہے، گو اس میں عادت نہیں مگر عادت جیسی بات ہے یعنی جب وہ ایک کام کرتا ہے تو اسے پھر دوہراتا ہے۔انسانوں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔بعض لوگوں کو پیر یا ہاتھ ہلانے کی عادت ہوتی ہے اور وہ بار بار ہلاتے ہیں اور عادت کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ کوئی بات بار بار کی جاتی ہے اور یہ بات اللہ تعالیٰ میں بھی ہے کہ جب وہ ایک خاص موقع پر اپنا فضل نازل کرتا ہے تو اسی موقع پر بار بار فضل کرتا ہے۔یہ بات قانون قدرت میں پائی جاتی ہے۔اللہ تعالٰی کی اس صفت کے ماتحت چونکہ رمضان کے مہینے میں قرآن نازل ہوا تھا اس لئے اگر اس رسول کی اتباع کی جائے جس پر قرآن نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ کی عادت سے مشابہت رکھنے والی صفت کے ماتحت ان لوگوں کو جو رسول کریم ﷺ سے مشابہت کی وجہ سے دنیا سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں اور دنیا میں رہتے ہوئے بھی اس سے تعلقات نہیں رکھتے، کھانے پینے سونے میں کمی کرتے ہیں، بیہودہ گوئی وغیرہ سے پر ہیز کرتے ہیں، ان کو الہام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام کیلئے اس مہینہ کو خصوصیت سے مچنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے۔پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی ہے۔اس میں بھی وہی عادت والی بات بیان کی گئی ہے۔خدا تعالی نے ایک دفعہ بہار میں اپنی رحمت کی شان دکھائی تھی اس لئے پھر جب وہ موسم آتا ہے اللہ تعالٰی کی رحمت کی شان کہتی ہے کہ اب کے بندے کیا کہیں گے، اس لئے پھر ہم دکھاتے ہیں اور اگر بندے اس سے فائدہ اٹھائیں تو اگلی بہار میں پھر وہی انعام نازل ہوتا ہے۔تو جو صفت الہی عادت کے مشابہ ہے وہ کلام الہی کو اگر درخت تصور کر لیا جائے تو ہر رمضان میں وہ اسے جھنجھوڑتی ہے اور اس سے تازہ بتازہ پھل حاصل ہوتے ہیں۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ رمضان اور اس کی روح سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جس کی طرف میں نے رمضان کے آنے سے پہلے بھی توجہ دلائی تھی، زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔اور ایسے رنگ میں اپنی زندگی کو ڈھالیں کہ خدا کیلئے ہو جائے۔وہ زندگی کو کھانے پینے اور پہننے کیلئے ہی وقف نہ سمجھیں۔اگر دین نہ ہو تو عورتوں کی زندگیاں تو بالخصوص جانوروں کی سی ہوتی ہیں۔وہ عورتیں جن کے ہاں نوکر چاکر نہ ہوں، صبح اٹھتے ہی کھانے پکانے کی فکر میں لگ جاتی ہیں۔اس ہنڈیا