خطبات محمود (جلد 15) — Page 524
خطبات محمود ۵۲۴ سال ۱۹۳۳ء استعمال کر کے دیکھیں ، چند ہی دنوں میں ان کا زمیندارہ بند ہو جائے گا۔ہر زمیندار کی زمین رستوں پر نہیں ہوتی اسے اپنے کھیتوں میں جانے کیلئے دوسروں کے کھیتوں میں سے گزرنا پڑتا ہے۔اب اگر ہر زمیندار لٹھ لے کر کھڑا ہو جائے کہ میں کسی کو گزرنے نہ دوں گا تو چند ہی دنوں میں کام بند ہو جائے۔دس میں کھیت ہی شاید بچ سکیں جو رستوں پر واقع ہوں۔پس یہ اصول غلط ہے کہ فلاں چیز میری ہے اس لئے میں ہی اسے استعمال کرنے کا حق رکھتا ہوں۔دنیا کے نظام کی بنیاد اس اصل پر ہے کہ میری چیز دوسرا استعمال کرے اور رمضان اس کی عادت ڈالتا ہے۔روپیہ ہمارا ہے، کھانے پینے کی چیزیں ہماری ہیں، مگر حکم یہ ہے کہ دوسروں کو اس سے فائدہ پہنچاؤ اور کھلاؤ کیونکہ اس سے دنیا کے تمدن کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔پھر امیروں کو روزہ سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ جب اس تھوڑے سے وقت میں بھوک کی وجہ سے اس قدر تکلیف اٹھانی پڑتی ہے تو ان غریبوں کا کیا حال ہوتا ہو گا جن پر ہمیشہ ہی یہ حالت رہتی ہے۔امراء کے ہاں تو افطار کیلئے عصر بلکہ ظہر سے ہی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں، کہیں بادام اور پتے پیسے جارہے ہیں، کہیں بالائی آرہی ہے، کہیں مٹھائیاں تیار ہو رہی ہیں، اگر گرمی کا موسم ہو تو برف اور لیمن وغیرہ مہیا کیا جاتا ہے، بیسیوں قسم کے کھانے تیار ہوتے ہیں ، پھر بھی وہ روزہ کو ایک احسان سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ یہ ایک بڑی مصیبت تھی۔گرمی کے موسم میں دن چڑھتے ہی پیاس کی شکایت شروع ہو جاتی ہے اور وہ یوں سمجھتے ہیں کہ روزہ رکھ کر ہم نے گویا دنیا پر ایک احسان کیا ہے۔ایسے لوگوں کو یہ احساس ہو سکتا ہے کہ جو لوگ غریب ہیں اور جن کے گھروں میں کھانے کو کچھ نہیں ہوتا، ان کا کیا حال ہوتا ہوگا۔کوئی اس سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے مگر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر ایک حجت قائم کر دیتا ہے تا قیامت کے دن وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں تو کوئی پتہ ہی نہیں ہے۔اللہ تعالی انہیں فرمائے گا کہ سردیوں میں رمضان آیا اور تم نے تکلیف محسوس کی گرمیوں میں آیا اور تم نے تکلیف محسوس کی، مگریہ خیال نہ آیا کہ جنہیں کھانے کو نہ سردیوں میں ملتا نہ گرمیوں میں، ان کی کیا حالت ہوتی ہوگی۔پس رمضان ہر شریف آدمی کے دل میں احساس پیدا کر دیتا ہے اور بُرے آدمی کے دل پر حجت کر دیتا ہے۔شریف آدمی تو اس سے غرباء کی حالت کا احساس کرتا اور ان کی خبر گیری کی کوشش کرتا ہے مگر شریر آدمی پر اس سے حجت قائم ہو جاتی ہے تا خدا تعالیٰ کے حضور وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے معلوم نہ تھا۔بھوک، پیاس کی کیا تکلیف ہوتی ہے۔اسی طرح روزہ سے