خطبات محمود (جلد 15) — Page 484
خطبات محمود سهم اسم سال ۱۹۳۴ء سے اخلاص نہیں رکھتا، اس کا مستعمل کپڑا دے کر دیکھو کس قدر ناراض ہوگا لیکن اگر اخلاص ہو اور وہ سمجھے کہ مستعمل کپڑے میں برکت ہوگی تو خود لجاجت کرکے لے گا۔رسول کریم ﷺ کے ایک صحابی ایک جنگ میں قید ہو کر مکہ میں پہنچے ، کفار انہیں طرح طرح کے دکھ دیتے تھے اور مار دینے کا فیصلہ کر چکے تھے ایسی حالت میں ان سے کسی نے کہا کہ کیا تمہارے نزدیک اچھا نہ ہوتا کہ تم مدینہ میں آرام سے اپنے گھر میں بیٹھے ہوتے اور تمہاری جگہ یہاں محمد( ال ) ہوتے۔اگر ان صحابی کے دل میں اخلاص نہ ہوتا تو وہ کہتے کہ میرے ایسے نصیب کہاں مگر انہوں نے جواب دیا کہ تم تو یہ کہتے ہو مگر میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ میں گھر میں آرام سے بیٹھا ہوں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے پاؤں میں مدینہ ہی کی کسی گلی میں کانٹا چھ جائے ہے۔ہمارے پیر ہر اس کانٹے کی جستجو کرتے ہیں جو آپ کے پاؤں میں چھنے والا ہو۔ہے غرض ذہنیت کے تغیر سے بہت بڑا تغیر ہو جاتا ہے۔ایک شخص جو پانسو روپیہ ماہوار تنخواہ لیتا ہے اگر تنزل کر کے اس کی تنخواہ چار سو روپیہ کر دی جائے تو اس کے ہاں ماتم بپا ہو جائے گا اور وہ بے چین ہو جائے گا کہ اب خرچ کیونکر چلے گا۔لیکن اگر ایک تین سو ماہوار پانے والے کی تنخواہ چار سو کردی جائے تو وہ اور اس کے گھر والے خوشی سے اچھلتے پھریں گے اور سمجھیں گے کہ اب خوب آرام سے گزر ہوگی۔پس اس سکیم میں اول تو میرے مد نظر یہ بات ہے کہ ذہنیت میں ایسا تغیر کروں کہ جماعت خدمت دین کیلئے تیار ہو جائے اور آئندہ ہمیں جو قدم اٹھانا پڑے اسے بوجھ نہ خیال کیا جائے بلکہ بشاشت کے ساتھ اٹھایا جاسکے۔ذہنیت کے کھنے کے ساتھ ساتھ ماحول کا تغیر بھی میرے منظر ہے یعنی اقتصادی حالت کی درستی اور مشقت کی عادت میں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ جو لوگ محمدہ عمدہ کھانے اور عمدہ لباس پہننے کے عادی ہوں وہ اگر ضرورت پڑے تو باہر خدمت دین کیلئے نہیں جاسکتے۔امیروں کی اولاد عام طور سے محروم رہ جاتی ہے۔اول تو والدین کی حد تک پہنچنا یوں بھی مشکل ہوتا ہے لیکن جب جفاکشی کی عادت نہ ہو تو بالکل ہی اچھے کام نہیں کرسکتے۔میں نے اس سکیم میں اس بات کو مد نظر رکھا ہے کہ ایسا ماحول پیدا کر دیا جائے کہ ان کے اندر اچھے کام کرنے کی اہلیت پیدا ہو جائے۔دوسری بات میرے مد نظر یہ ہے کہ ہر طبقہ کے لوگوں کو یہ احساس کرا دیا جائے کہ