خطبات محمود (جلد 15) — Page 483
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء سیب ہیں۔اب دکاندار کیوں کہے گا کہ اچھے نہیں ہیں وہ کہہ دیتا کہ ہاں بہت اچھے ہیں۔یہ کہتے کیا بھاؤ دوگے وہ اگر کہتا کہ روپیہ کے سولہ تو یہ کہتے کہ بارہ دو مگر اچھے چن کر دے دو میں نے اپنے پیر کے لئے لے جاتے ہیں۔وہ وہی جو سولہ کے حساب سے دیتا اٹھا کر دے دیتا اور وہ لے آتے حالانکہ ان میں اتنی ہی اچھائی ہوتی تھی جتنی کہ اعلیٰ چیز اور اعلیٰ دکان سے خریدنے میں ہو سکتی تھی۔سولہ کے کم کر کے بارہ لینے میں انہیں کوئی زیادہ اچھی چیز نہ مل جاتی تھی۔پس بے احتیاطی۔سے سودا خریدنا یا سادگی سے ہوتا ہے یا بد دیانتی سے۔کوشش کر کے اور مختلف دُکانیں پھر کر اگر چیز خریدی جائے تو سستے داموں مل سکتی۔ہے۔اب میں نے اس سکیم کے متعلق مجموعی طور پر اس کی وہ تفصیلات جو موجودہ حالات میں ضروری تھیں، سب بیان کردی ہیں اور اس میں میں نے مندرجہ ذیل امور مدنظر رکھے ہیں۔(۱) یہ کہ جماعت کے اندر اور باہر ایسا ماحول پیدا ہو جائے کہ جس سے جماعت کی ذہنیت اور اقتصادی حالت اچھی ہو جائے اچھی ذہنیت کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔اگر کسی شخص کے سامنے اعلیٰ سے اعلیٰ کھانا رکھا ہو مگر وہ یہ سمجھے کہ اچھا نہیں تو مزا نہیں اٹھا سکتا۔جب سے ایک ہی سالن کھانے کی پابندی پر شدت سے عمل شروع کیا ہے میں نے خود اس کا تجربہ کیا ہے۔پہلے اگر دو سالن کبھی آتے تو کئی دفعہ ایک کو ناپسند اور دوسرے کو پسند کیا کرتا تھا مگر جب ایک ہی کھانا ہو تو جن نقائص کو دو کی صورت میں زبان محسوس کرتی ہے وہ محسوس نہیں ہوتے کیونکہ جب زبان کو معلوم ہو کہ دوسرا نہیں ملنا تو اعتراض کا مادہ کم ہو جاتا ہے۔پس ذہنیت بڑا بھاری اثر رکھتی ہے۔کوئی غریب آدمی پیدل چلا جا رہا ہو اور کوئی کمہار اسے کہے کہ پیدل کیوں چلتے ہو آؤ میرے گدھے پر بیٹھ جاؤ تو اس کا دل باغ باغ ہو جائے گا اور وہ خیال کرے گا کہ اتنے میل پیدل چلنے سے بچ گئے لیکن اگر کوئی امیر آدمی جا رہا ہو اور اسے غصہ آ رہا ہو کہ نوکر کو گھوڑا لانے کا حکم دیا تھا وہ نہیں لایا۔یا کسی دوست رشتہ دار کو اطلاع دی تھی کہ فلاں جگہ پر گھوڑا بھیج دینا اور اس نے نہیں بھیجا اور وہی گدھے والا اسے کہے کہ آؤ میرے گدھے پر سوار ہو جاؤ تو وہ بجائے کسی جذبہ امتتان کے اظہار کے اتنی مغلظات سنائے گا کہ شاید اسے کانوں میں انگلیاں دے لینی پڑیں اور اپنی ذہنیت کے بدلہ میں وہ امیر آدمی پر چڑھنے کی دعوت کا انکار کرتے کرتے خود گدھا بن جائے گا۔تو ذہن کا اثر بڑی چیز ہے اگر ذہنیت تبدیل ہو جائے تو آدھی لڑائی فتح ہو سکتی ہے۔کسی امیر آدمی کو جو ایک بزرگ گدھے