خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 458

خطبات محمود ۴۵۸ مونہوں سے ان کے متعلق باتیں سن کر کوئی توجہ نہ کی ہوگی مگر پھر مان لیں گے۔اس قسم کے لوگ اگر علاوہ اس قربانی کے جس قدر چھٹی مل سکے اس میں تبلیغ کریں، اپنے نام دے دیں اور کہہ دیں کہ جہاں موقع ہو ان کو بلالیا جائے تو ان سے بہت مفید کام لیا جاسکتا ہے اور یہ کام زیادہ نہ ہو گا۔سال میں ایک ایک دو دو لیکچر حصہ میں آئیں گے۔یہ لوگ اگر لیکچروں کیلئے معلومات حاصل کرنے اور نوٹ لکھنے کیلئے قادیان آجائیں تو میں خود ان کو نوٹ لکھا سکتا ہوں یا دوسرے مبلغ لکھا دیا کریں گے۔اس طرح ان کو سہارا بھی دیا جاسکتا ہے۔شروع شروع میں خواجہ صاحب یہاں سے بہت نوٹ لکھایا کرتے تھے پھر آہستہ آہستہ ان کو مشق ہو گئی۔جن اصحاب کے میں نے نام لئے ہیں کہ اس رنگ میں تبلیغ کرنے میں حصہ لیتے ہیں ان کیلئے بھی ابھی گنجائش ہے کہ اور زیادہ حصہ لیں۔اس طرح بھی تبلیغ میں نئی رو پیدا کی جاسکتی ہے۔اگر دو تین سو ڈاکٹر وکیل اور بیرسٹر اور اچھے عہدیدار لیکچر دینے لگیں تو لوگوں کی طبائع میں ایک نیا رنگ پیدا ہو سکتا ہے۔مولویوں کے لیکچر کے متعلق تو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ فلاں ان کا مولوی اور فلاں ہمارا مولوی ان کی آپس میں لڑائی دیکھنی چاہیئے۔لیکن جب لیکچر دینے والے ڈاکٹر بیرسٹر وکیل یا دوسرے معزز پیشوں اور عہدوں کے لوگ ہوں گے تو لوگ صرف تماشہ نہیں بلکہ کچھ حاصل کرنے کیلئے جمع ہوں گے اور بہت سے لوگ سلسلہ کی طرف رغبت کرنے لگیں گے۔پرانے دوستوں میں سے کام کرنے والے ایک میرحامد شاہ صاحب مرحوم بھی تھے۔ان کو خواجہ صاحب سے بھی پہلے لیکچر دینے کا جوش تھا اور ان کے ذریعہ بڑا فائدہ پہنچا۔وہ ایک ذمہ دار عہدہ پر لگے ہوئے تھے باوجود اس کے تبلیغ میں مصروف رہتے اور سیالکوٹ کی دیہاتی جماعت کا بڑا حصہ ان کے ذریعہ احمدی ہوا۔گیارھواں مطالبہ یہ ہے کہ ایک دفعہ میں نے تحریک کی تھی کہ ۲۵ لاکھ سے ریز روفنڈ قائم کیا جائے اور اس طرح آمد کی ایسی صورت پیدا کی جائے کہ اس کے ساتھ ہنگامی کام کئے جاسکیں۔اب ہمارا بجٹ ایسا ہوتا ہے کہ ہم ہنگامی کام پر کچھ خرچ نہیں کرسکتے۔یہی دیکھو اس وقت کتنا بڑا ہنگامہ شروع ہے مگر بعض دفعہ دس میں روپے خرچ کرنے کیلئے بھی کام میں روک پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح بجٹ کی رقم سے زیادہ خرچ ہو جائے گا۔حالانکہ حقیقتاً یہ ہونا چاہیئے کہ دس لاکھ کا بجٹ ہو تو اس میں سے اڑھائی لاکھ مقررہ خرچ کیلئے ہو اور باقی ہنگامی اخراجات کیلئے ہو۔یعنی جو حملے جماعت پر ہوں ان کے دفعیہ