خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 40

خطبات محمود پر اس " ۴۰ سال ۱۹۳۴ء کے متعلق پیشگوئی بھی براہ راست ہوتی ہے کہ فلاں شخص برباد ہو جائے گا لیکن جو عذاب عام ہوتا ہے، اس میں ہمدردی ضروری ہوتی ہے جیسے حضرت یوسف کے وقت میں قحط نمودار ہوا مگر آپ کے ہی ہاتھ سے خدا تعالیٰ نے غلہ بھی تقسیم کرایا۔اُس وقت عذاب اس لئے آیا تھا کہ تا خدا تعالیٰ آپ کو قید سے نکلوائے اور آپ پر جو ظلم ہوا تھا لوگوں پر اس کا نتیجہ ظاہر کرے اور بتائے کہ اللہ تعالٰی اپنے پیارے بندہ کیلئے تمام ملک کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔نیز اس لئے کہ حضرت یوسف کے اس رویا کو پورا کرے جس میں آپ نے دیکھا کہ سورج چاند اور ستارے آپ کو سجدہ کرتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے قحط نازل کیا تا ملک بھوکا مرے اور حضرت یوسف کے بھائی روٹی مانگتے ہوئے آپ کے پاس پہنچیں۔وہ ایک نشان تھا جس کے نتیجہ میں ملک پر عذاب آیا تھا مگر حضرت یوسف خود درخواست کر کے ایسا عہدہ لیتے ہیں جس رہ کر وہ مصیبت زدگان سے زیادہ سے زیادہ ہمدردی کر سکیں۔بادشاہ آپ کو وزیر اعظم بنانا چاہتا ہے مگر آپ کہتے ہیں کہ مجھے خزائن الارض پر مقرر کرو اے۔پس اُس وقت تحط عذاب راب تو بے شک تھا مگر حضرت یوسف ہمدردی بھی پوری پوری کرتے ہیں اور عذاب کی شدت کو پورے طور پر کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن جہاں بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ایسے عذاب میں بھی ہمدردی نہیں کرنی چاہیئے وہاں بعض منافق ان عذابوں میں بھی جن میں ہمدردی کرنا گناہ ہوتا ہے ہمدردی کی آڑ میں اس نشان کو مشتبہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور بعض اللہ تعالی کی رحمت کو بھول جاتے ہیں حالانکہ قرآن کریم میں صاف مثال موجود ہے۔اگر اس مطلب نہیں کہ ایسے وقت میں مصیبت زدگان سے ہمدردی کرنا چاہیے تو آخر اس کے بیان کرنے کا فائدہ کیا تھا۔اس کا یہی مطلب ہے کہ تا خداتعالی بتائے کہ بعض عذابوں میں رافت و ہمدردی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ہاں بعض میں نہیں اور ان کے متعلق قرآن کریم نے صاف فرما دیا ہے کہ لا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِى دِینِ اللہ سے جو زلزلہ کا عذاب آیا ہے یہ بھی اسی قسم کا ہے جس میں ہمدردی کرنا اشد ضروری ہے۔اس میں لاکھوں ایسے انسان بھی تباہ ہو گئے ہیں کہ ان کی تباہیاں کسی مامور کے انکار کے باعث نہیں کہلا سکتیں۔ممکن ہے ان میں سے بعض نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام بھی نہ سنا ہو۔یا اگر سنا ہو تو ایسی طرح که پوری واقفیت نہ حاصل کر سکے ہوں۔ان پر اگر عذاب آیا تو محض عام عذاب ہونے کی وجہ سے جو دنیا کی تمام بدکاریوں اور شرارتوں کی وجہ سے آیا اور ایسے لوگوں کے ساتھ