خطبات محمود (جلد 15) — Page 442
خطبات محمود تھی، سمسم سال ۱۹۳۴ء اسے نہیں پکڑا گیا پھر ہمیں کیوں گرفت کی جاتی ہے یا یہ کہ فلاں شخص فلاں نیکی اور ثواب کا کام نہیں کرتا تو ہم کیوں کریں وہ تباہ ہو جاتی ہے کیونکہ اس قسم کے غذرات کا مطلب ہوتا ہے کہ اس قوم کی نظر آگے بڑھنے والوں اور ترقی کرنے والوں کی طرف نہیں ہوتی بلکہ کمزوروں اور پیچھے رہنے والوں پر ہوتی ہے۔حالانکہ جس قوم نے آگے بڑھنا ہوتا ہے وہ آگے والوں کو دیکھتی ہے اور جس نے پیچھے ہٹنا ہوتا ہے وہ پیچھے رہنے والوں کو دیکھتی ہے اور جس قوم کی نظر آگے کی طرف ہوتی ہے، وہی ترقی کرتی ہے اور جس کی نظر پیچھے کو ہوتی ہے وہ تنزل کے گڑھے میں گرتی ہے۔مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض احمدی کہلانے والے بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ فلاں میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے اور فلاں میں یہ تو پھر ہمیں اس کمزوری کی وجہ سے کیوں گرفت میں لایا جاتا ہے۔گویا ان کے نزدیک دین کی خدمت کرنا اور دین کیلئے قربانی کرنا ایک چٹی ہے جسے اسی صورت میں برداشت کیا جا سکتا ہے کہ ہر ایک شخص کو اس میں شامل کیا جائے نیکی اعلیٰ مقصد نہیں جس کے حصول کیلئے دوسروں سے بڑھنے کی خواہش کی جائے۔مگر صحابہ میں وہ جوش تھا کہ ان میں سے غرباء نے رسول کریم ا ہیں اور وہ سے یہ سوال کیا کہ ہم کس طرح ثواب حاصل کرنے میں امراء کا مقابلہ کر سکتے کیا طریق ہے کہ ہم نیکی حاصل کرنے میں ان سے پیچھے نہ رہیں۔رسول کریم نے انہیں فرمایا کیا میں تمہیں ایسی ترکیب بتاؤں کہ اگر تم اس پر عمل کرو تو امراء سے کئی سوسال پہلے جنت میں داخل ہو جاؤ۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ کیا ترکیب ہے؟ آپ نے فرمایا۔ہے کہ تم ہر نماز کے بعد ۳۳ ۳۳ دفعہ تسبیح و تحمید اور ۳۴ بار تکبیر کہہ لیا کرو۔انہوں ایسا ہی کرنا شروع کر دیا۔مگر معلوم ہوتا ہے جو جذبہ قربانی اور ایثار کا اُس وقت کے غرباء میں پایا جاتا تھا وہی امراء میں بھی موجود تھا انہوں نے ٹوہ لگائی کہ رسول کریم ال اور غرباء میں کیا بات چیت ہوئی۔آخر انہیں پتہ لگ گیا کہ رسول کریم ﷺ نے ان کو ایک ایسا گر بتایا ہے کہ جس پر عمل کرنے سے وہ اس ثواب کے بھی حقدار ہو جائیں گے جس میں وہ پہلے شریک نہ ہوسکتے تھے اور انہوں نے بھی وہ نسخہ معلوم کر لیا اور پھر اس پر عمل کرنا شروع کر دیا۔دیکھ کر غرباء پھر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ امراء کو منع کردیں کیونکہ انہوں نے بھی وہی کرنا شروع کر دیا ہے جو آپ نے ہمیں بتایا تھا۔یہ سن کر رسول کریم ال نے فرمایا جسے خدا تعالیٰ نیکی کرنے کی توفیق دے اسے میں