خطبات محمود (جلد 15) — Page 437
خطبات محمود ٣م سال ۱۹۳۴ء سروے سال تک ایسی رقم واپس نہیں ہو سکے گی اور تین سال کے بعد روپیہ یا جائداد کی صورت میں واپس ہوگی۔تیسرے پراپیگنڈا کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس کے لئے پندرہ ہزار روپیہ کی ضرورت ہے۔جس میں سے پانچ ہزار فوری طور پر چاہیے۔چوتھی بات یہ ہے کہ تین نئے ممالک میں دو دو کر کے چھ آدمیوں کو کچھ کرایہ یا خرچ دے کر بھیجا جائے اور ہر سال وہاں ایک ایک آدمی اور ضرور بھیجا جاتا رہے۔اس طرح بہت سے آدمی تھوڑے عرصہ میں ہی مختلف ممالک میں پہنچ جائیں گے۔یہ خرچ اتنا کم اور اس کے نتائج اتنے اہم ہیں کہ جس کا ابھی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ہمارے ایک ایک مشن کا خرچ پانچ پانچ ہزار روپیہ سے زیادہ ہے مگر اس طرح پانچ ہزار سے تین نئے مشن قائم ہو سکیں گے۔یہی پرانے زمانہ میں صوفیاء کا دستور تھا اور ایسا ہی وقت اب ہمارے لئے آگیا ہے۔پانچویں بات یہ ہے کہ سو روپیہ ماہوار کی ایسے ذرائع تبلیغ کیلئے ضرورت ہے جنہیں میں ظاہر نہیں کرتا۔جن کے سپرد یہ کام ہو گا، انہیں اسے ظاہر کروں گا۔اور چھٹی بات یہ ہے کہ سو روپیہ ماہوار کی سارے پنجاب کے کیلئے ضرورت ہے۔یہ چھ باتیں ہیں جو آج میں پیش کرتا ہوں اور بھی تجاویز ہیں جو اگلے جمعہ میں بیان کروں گا۔ایک طرف تو مالدار لوگ ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ فوراً جمع کردیں۔اور دوسرے نوجوان جنہوں نے اپنے نام پیش کئے ہیں دوبارہ غور کر کے مجھے اطلاع دیں کہ کیا وہ ان شرائط کے ماتحت غیر ممالک کو جانے کیلئے تیار ہیں یا سائیکل پر سروے کا کام ان کے سپرد کیا جائے تو کیا وہ اس کیلئے تیار ہیں۔ترجیح غیر ممالک میں جانے کیلئے ان لوگوں کو دی جائے گی جو اپنا خرچ کر سکیں۔سائیکلوں پر جانے والے آدمی محنتی ہونے چاہئیں۔پھر اخراجات میں کمی کر کے جو لوگ تین سال تک امانت کے طور پر بیت المال میں جمع کرا سکیں، وہ بھی مجھے اپنے نام بتادیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جس جوش کے ساتھ دوستوں نے پہلے قربانیوں کیلئے اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔اس سے اگر آدھے جوش کے ساتھ بھی کام کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ مطالبات پورے نہ ہو جائیں۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی ہمیں اپنے دین کیلئے بیش از پیش قربانیوں کی توفیق دے اور کارکنوں کو بھی توفیق دے کہ جماعت کے اموال کو دیانت کے ساتھ اور ایسے طریق پر صرف کر سکیں کہ بہتر سے بہتر نتائج پیدا ہوں۔وہ اپنے فضل اور برکت کے دروازے ہم پر کھول دے۔اور سلسلہ کی ترقی کا جو کام ہمارے ذمہ ڈالا ہے اسے خود ہی پورا کرے۔(الفضل ۲۵- نومبر ۱۹۳۴ء)۔ا