خطبات محمود (جلد 15) — Page 367
خطبات محمود ۳۶۷ سال ۱۹۳۴ء کے وقت انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ کیا گورنمنٹ جانتی ہے ہم کون ہیں، ہم مسلمان ہیں، اگر ذرا اٹھے تو بتادیں گے مگر کیا کچھ بھی نہ اور معافیاں مانگ کر واپس آگئے۔میکلگن کالج کے جھگڑے کے وقت بھی اسی طرح کیا۔ان کی مثال وہی ہے جو ہندو بنیوں کی لڑائی کرتے وقت ہوتی ہے۔میں نے خود اس قسم کی لڑائی دیکھی ہے ایک شخص دوسرے سے کہتا تھا کہ گالی دے تو میں تجھے بتاؤں گا اور جب وہ گالی دیتا تو یہ تولنے کا باٹ اٹھا کر کہتا اب کے گالی دے تو میں تیرا سر پھوڑ دوں گا۔چند منٹ انہی الفاظ کا تکرار رہتا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد پہلا شخص کوئی اور گالی دے دیتا تو یہ پھر اُچھل کر کہتا کہ اب کے گالی دے تو تجھے بتلاؤں۔میں نے جب یہ لڑائی دیکھی اس وقت میں بچہ تھا، پانچ چھ سال کی عمر ہوگی، میں حیرت سے یہ تماشا دیکھنے لگا اور میرے دل میں بار بار یہ خیال آتا کہ یہ جلدی کیوں نہیں کرتا اگر اس نے مارنا ہے تو مار کر اس کا سرکیوں نہیں پھوڑتا مگر ایک ادھر سے کودتا اور دوسرا ادھر سے پُھدکتا نہ مارتا اور نہ وہ گالی دینے سے رُکتا، احرار اور گورنمنٹ کی لڑائی بالکل اسی قسم کی ہے۔گورنمنٹ کچھ کہتی ہے تو یہ پھدکتے ہوئے اُٹھتے ہیں اور کہتے ہیں کیا تم کو پتہ نہیں۔ہم مسلمان ہیں ہم تمہارا تختہ الٹ کر رکھ دیں گے۔کئی سال سے ہم یہی سنتے چلے آئے مگر عملی رنگ میں ان میں سے کسی نے کچھ کر کے نہ دکھایا۔صرف اس وقت انہیں خوشی محسوس ہوتی ہے جب ان میں سے کوئی شخص کسی ہندو کو مار دیتا ہے حالانکہ ہم ان سے زیادہ دین کے لئے غیرت رکھتے ہیں۔مگر ہم اس بات کو نہایت بُرا سمجھتے ہیں کہ ایک نہتے اور غافل شخص پر خنجر اٹھا کر اسے قتل کر دیا جائے اگر اپنی جان کی قربانی ہی کرنی ہو تو کسی طاقتور کا مقابلہ کرکے جان کی قربانی کرنی چاہیے مگر احراری اور ان کے ساتھی ایسا نہیں کرتے۔یہاں قادیان کے قریب آئے تو یہی دھمکیاں دیتے رہے کہ پولیس کا چاروں طرف پہرہ ہے اگر آٹھ گھنٹے کے لئے گورنمنٹ نہیں کھلا چھوڑ دے تو ہم دیکھ لیں کہ یہ احمدی اور ان کا قادیان کہاں رہتا ہے۔مگر ظفر علی صاحب جب ایک دفعہ بٹالہ میں آئے اور وہاں بعض احمدی پہنچ گئے تو انہوں نے یہ شور مچادیا کہ احمدی لٹھ لے کر ہمیں مارنے آگئے ہیں اگر کوئی طاقت تھی تو اسی جگہ کیوں نہ احمدیوں کے ساتھ مقابلہ کر لیا۔مگر دراصل ان لڑنے والے بنیوں کی طرح ان کی یہ عادت ہے کہ ہر موقع پر جھوٹی شیخیاں بگھارتے ہیں مگر ہم کبھی غلط دھمکیاں نہیں دیا کرتے ہم جھوٹے دعوے نہیں کیا کرتے، ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم گورنمنٹ کا تختہ الٹ دیں گے کیونکہ ہمارا