خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 327

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء نہیں کر سکتا مگر وہ چونکہ گر ہیں اور قانون کی پابندی سے آزاد اس لئے انہوں نے اجازت لینے کی ضرورت نہ سمجھی اور دیواریں اور دیواریں کھڑی کرنی شروع کردیں۔اس تعمیر کے وقت پولیس کے آدمی باوردی اس جگہ پر موجود تھے۔اس قانون شکنی کو دیکھ کر کمیٹی نے انہیں ممانعت کا نوٹس دیا تو اسے لینے سے بھی انکار کردیا اور اُٹھا کر پھینک دیا۔اسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس نے اسے اٹھایا۔یہ سب کارروائی گورنمنٹ کے ایک تسلیم شدہ ادارہ کی طرف سے اور گورنمنٹ کے قانون کو پورا کرانے کیلئے ہوئی اور اس میں ہماری جماعت کا ایک ذرہ بھر بھی دخل نہ تھا لیکن صرف اس وجہ سے کہ کمیٹی کا نوٹس پیش کرنے والا کلرک احمدی تھا، احراریوں نے شور مچادیا کہ احمدی ہم پر حملہ کر کے آگئے ہیں اور ہمیں مسجد کی تعمیر سے روکتے ہیں۔یہ سب کہانی بالکل جھوٹی تھی، احمدی حملہ آور ہو کر نہیں گئے اور کسی نے ان کو مسجد بنانے سے نہیں روکا۔سمال ٹاؤن کمیٹی گورنمنٹ کے ماتحت بنی ہوئی ہے اور اسی کے ایک افسر نے گورنمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کے ماتحت انہیں روکا مگر یہ روکنا کیا تھا گویا ۱۹۵۷ء کا غدر ہو گیا۔کہیں سپرنٹنڈنٹ پولیس چلے آرہے ہیں، کہیں مجسٹریٹ علاقہ چلے آرہے ہیں، کہیں پولیس کے دوسرے افسر دوڑے آرہے ہیں گویا ایک آفت تھی جو آگئی۔ناظر امور عامہ کو بلوایا گیا اور ان سے بار بار پوچھا گیا کہ یہ کیا ظلم اور اندھیر ہے جو یہاں ہو رہا ہے ، گورنمنٹ آگے ہی آپ لوگوں کے خلاف ہے، اب آپ نے یہ حرکت کردی ہے۔یہ ایسا معالمہ تھا کہ ہماری جماعت کے افراد کیلئے اس کا سمجھنا بھی مشکل تھا۔سمال ٹاؤن کمیٹی کا یہ کام تھا اور اس نے جو کچھ کیا وہ قانون کے اندر کیا۔قانون کو توڑنے والے احراری تھے مگر اسے رنگ یہ دیا گیا کہ احمدیوں نے حملہ کردیا اور احمدیوں نے مسجد بنانے سے انہیں روک دیا اور اس پر اتنا شور ڈالا گیا کہ گویا ایک مصیبت تھی جو اُن پر آگئی۔ادھر کارکنان سلسلہ الگ مشکلات میں تھے، کہیں وہ اپنے طور پر تحقیقات کر رہے تھے کہ کوئی احمدی وہاں تھا تو نہیں، کہیں آپس میں غور کر رہے تھے کہ اس فتنہ کا کیا سد باب کیا جائے لیکن سب طرف سے تحقیقات کے بعد یہی معلوم ہوا کہ وہاں سمال ٹاؤن کمیٹی کا کلرک گیا تھا اور جب اس احمدی کلرک کے ساتھ وہ لوگ سخت کلامی کے ساتھ پیش آئے اور شور مچایا تو کچھ راہ چلتے ہوئے غیر احمدی، ہندو اور کچھ احمدی بھی اکٹھے ہو گئے۔اب یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ سب احمدی بھرے کر دیئے جائیں تاکہ اگر کہیں جھگڑا ہو اور شور پڑے تو وہ آواز بھی