خطبات محمود (جلد 15) — Page 326
خطبات محمود ۳۲۶ سال ۱۹۳۴ء باوجود انہوں نے جماعت کا کام کیا حالانکہ یہ واقعات ایسے ہیں کہ ہماری تمام تر توجہ انہی کی طرف لگی رہتی ہے۔پس جماعت کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ یا تو یہ روکیں وہ اپنے راستہ سے دور کرے جو اس وقت ہمارے راستہ میں حائل ہو رہی ہیں ورنہ جماعت کے تمام کام اس وقت تک بند رہیں گے جب تک وہ افسر نہ چلے جائیں جو ہمارے امن میں خلل اندازی کا موجب ہو رہے ہیں۔مگر میں اس اخلاص کا اندازہ کرتے ہوئے جو مولوی عبدالرحمن صاحب شہید نے امیر عبدالرحمن کے وقت کابل میں دکھایا اور اس اخلاص کا اندازہ کرتے ہوئے جو سید عبداللطیف صاحب شہید نے امیر حبیب اللہ کے وقت میں دکھایا اور پھر اس اخلاص کا اندازہ کرتے ہوئے جو مولوی نعمت اللہ صاحب شہید اور ان کے دو ساتھیوں نے امیر امان اللہ خان کے وقت میں دکھایا اور پھر اس اخلاص کا اندازہ کرتے ہوئے جو ہندوستان میں اور بیرون ہندوستان ہزاروں احمدیوں نے سخت سے سخت تکالیف کے مقابلہ سے دکھایا، امید رکھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ ایک منٹ کیلئے بھی یہ گوارا نہیں کرے گی کہ اس کے کاموں میں خلل اندازی کی جائے اور وہ فرائض جو اللہ تعالیٰ نے اس پر عائد کئے ہیں ان کی بجا آوری میں نقص واقع ہو۔وہ ہر جائز قربانی کرنے کیلئے تیار رہے گی اور وہ ملک معظم کی وفادار رعایا رہتے ہوئے اس حق کو حاصل کر کے رہے گی جس کو آج پامال کیا جا رہا ہے۔اب میں بعض وہ واقعات بیان کرتا ہوں جو اس سلسلہ میں بیان کرنے ضروری ہیں اور چونکہ ڈیڑھ بجے تک میں ایک دوست کو خط لکھتا رہا ہوں اور اس کے بعد صرف دس منٹ میں یہ واقعات نوٹ کئے ہیں اس لئے میں ان میں کوئی ترتیب ملحوظ نہیں رکھ سکا۔- پہلا واقعہ: میں اس جگہ کا ہی لے لیتا ہوں جسے احراری لوگ مسجد کہتے ہیں حالانکہ وہ قبلہ رخ نہیں، وہ شاید ڈیڑھ مرلہ کے قریب جگہ ہے، میں نے خود اسے دیکھا ہے قریباً ایک کمرہ کے برابر زمین ہے۔وہ زمین احرار کے نام سے یا احراریوں کی طرف سے کسی آدمی نے خریدی مجھے صحیح واقعہ معلوم نہیں بہرحال اس تحریک کے سلسلہ میں یہ زمین خریدی گئی اور اس کے خریدنے کے بعد چندہ جمع کرنے کی نیت سے وہاں مسجد کے نام سے ایک چھوٹی سی عمارت بنانی شروع کردی گئی۔وہ جگہ سمال ٹاؤن کمیٹی کی حدود میں ہے اور گورنمنٹ کے قانون کے ماتحت سمال ٹاؤن کمیٹی کی اجازت کے بغیر کوئی شخص اس کے حلقہ میں عمارت کھڑی۔