خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 308

خطبات محمود ہے ۳۰۸ سال ۱۹۳۴ء یہ پیج قائم ہے، ہر احمدی جس کے دل میں ایمان ہے اس کا فرض ہے کہ جماعت کے وقار اور عزت کیلئے ہر قربانی کیلئے تیار رہے۔احمدیت صرف نماز روزوں کا نام ہی نہیں اور جو شخص احمدیت کے اعزاز اور وقار کیلئے اپنی جان اور مال قربان کرنے کو تیار نہیں وہ احمدی نہیں کہلا سکتا۔حکومت نے ہماری پچاس سالہ روایات کو جن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فخر کرتے رہے، حضرت خلیفہ اول " فخر کرتے رہے اور میں فخر کرتا رہا، بیدردی سے کچل دیا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ اسے پھر قائم کریں اور ثابت کردیں کہ جو کہتا ہے ہم نے ان روایات کو قائم نہیں رکھا وہ غلط بیانی کرتا ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ اس شخص کو سزا دے۔اس موقع پر حکومت نے جو تشریح اپنے عمل کی کی ہے، اس کا میں علیحدہ جواب دوں گا۔اس میں تاریخیں بھی غلط دی گئی ہیں اور واقعات بھی غلط دیئے گئے ہیں مگر یہ سب تفاصیل میں آگے بیان کروں گا۔سردست میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حکومت کی تشریح میں بعض صریح طور پر غلط واقعات درج ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگوں نے حکومت کو دھوکا دیا ہے اور حکومت میں کوئی ایسا عصر موجود ہے جو ہم سے بلاوجہ عناد رکھتا ہے۔بعض افسروں نے اس دوران میں اس ہتک کے احساس کو اور بھی مضبوط کیا ہے، ایک افسر کو جب کہا گیا کہ یہ نوٹس خلیفہ کو کیوں دیا گیا تو اس نے کہا کیا خلیفہ حکومت کی رعایا نہیں ؟ گویا رعایا ہونے کے یہ معنی ہیں کہ جس کی چاہو ہتک کرو۔میں اس افسر کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر حکومت کی رعایا ہونے کے یہی معنے ہیں تو کوئی شریف اور غیرت مند انسان اس کی رعایا ہونا پسند نہیں کرے گا۔ہم تو برطانوی رعایا ہونے کا یہی مطلب سمجھا کرتے تھے کہ اس حکومت میں سب کی عزت محفوظ ہے، کوئی کسی کی تو ہین اور ہتک نہیں کر سکتا بلکہ رعایا کا ہر فرد برٹش ایمپائر کی عظمت کا دار ہے لیکن آج ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ خواہ تم پر کوئی غلط قانون ہی کیوں نہ استعمال کیا جائے، رعایا ہونے کا یہ مطلب ہے کہ تمہیں بولنے کا کوئی حق نہیں اور اگر بولتے ہو تو تم باغی ہو۔اگر رعایا ہونے کا یہی مطلب ہے تو حکومت کو چاہیے کہ دلیری سے اس کا اعلان کر دے کہ اے ہندوستان کے رہنے والو تمہاری عزت خاک میں ملادی جائے گی۔اس صورت میں جو غیرت مند ہو گا وہ اس ملک سے نکل جائے گا بجائے اس کے کہ ذلیل ہو کر یہاں رہے۔ایک دوسرے افسر نے کہا کہ خلیفہ کے سوا اور کسے مخاطب کیا جاتا کیا اس صورت میں یہ نہ کہا جاتا کہ کسی اور کو ذمہ دار قرار دے کر خلیفہ کی ہتک کی گئی ہے۔جس دوست سے کہا گیا اس نے