خطبات محمود (جلد 15) — Page 287
خطبات محمود ۲۸۷ سال ۱۹۳۴ء کے وقار کو قائم کرنے کیلئے ہر ایک جدوجہد کرنی پڑے گی۔آپ لوگوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمارے لئے یہ وقت بہت نازک ہے۔ہر طرف سے مخالفت ہو رہی ہے اور اس کا مقابلہ کرتے ہوئے سلسلہ کی عزت اور وقار کو قائم رکھنا آپ لوگوں کا فرض ہے۔ایک دفعہ ایک پرائیویٹ میٹنگ کے موقع پر سردار سکندر حیات خان کے مکان پر چوہدری افضل حق صاحب نے مجھے یہ کہا تھا کہ ہمارا مقصد یہی ہے کہ احمدیہ جماعت کو کچل دیں۔پس دشمنوں نے ہمیں چیلنج دیا۔ہے۔پس جب تک تمہاری رگوں میں خون کا ایک قطرہ بھی باقی ہے تمہارا فرض ہے کہ اس ن کو منظور کرتے ہوئے اس گروہ کے زور کو جو یہ دھمکیاں دے رہا ہے تو ڑ کر رکھ دو اور دنیا کو بتادو کہ تم پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر سکتے ہو، سمندروں کو خشک کرسکتے ہو اور جو بھی تمہارے تباہ کرنے کیلئے اٹھے، وہ خواہ کس قدر طاقتور حریف کیوں نہ ہو اسے خدا تعالیٰ کے فضل سے اور جائز ذرائع سے تم مٹاسکتے ہو کیونکہ تمہارے مٹانے کی خواہش کرنے والا در حقیقت خدا تعالیٰ کے دین کو مٹانے کی خواہش کرتا ہے۔(اس پر زور سے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے گئے۔تو حضور نے فرمایا کہ خطبہ میں ایسے نعرے لگانا جائز نہیں) اس چیلنج کو ہم نے قبول کرنا ہے۔میں نے شروع میں اس چیلنج کو نظر انداز کر دیا تھا اور اسے ایک احمقانہ چیلنج سمجھا تھا۔مگر ان کے اخبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ پھر قادیان آکر بھی انہوں نے اس چیلنج کو دہرایا ہے۔ان کے جلسہ میں کہا گیا کہ ۲۰ ہزار فرزندان توحید کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس طرف ڈی اے وی سکول اور اُس طرف مینارۃ المسیح سے ٹکرا رہا تھا۔اس بیان میں جو صداقت ہے اسے وہ بھی خوب جانتے ہیں، ہم بھی اور پولیس بھی اچھی طرح جانتی ہے۔اگر یہ سمندر منارة المسیح کو ٹکرا رہا تھا تو راستہ میں جو ہندوؤں کا محلہ پڑتا ہے وہ تباہ ہو جانا چاہیئے تھا۔اور اُن کی طرف سے ان پر نالشیں ہو جانی چاہئے تھیں لیکن ان لوگوں کو تو مبالغہ آرائی اور جھوٹ سے کام ہے۔پیس جیسا کہ حکومت پنجاب کے بعض افراد نے سلسلہ کی ہتک کی ہے، احرار کا بھی چیلنج موجود ہے اور آپ لوگوں کا کام ہے کہ ہتک کا بھی ازالہ کریں اور چیلنج کا بھی جواب دیں۔اور ان دونوں باتوں کیلئے جو بھی قربانیاں کرنی پڑیں کریں۔اس کیلئے میں آپ لوگوں سے ایسی بھی قربانیوں کا مطالبہ کروں گا جن کا پہلے مطالبہ نہیں کیا گیا اور ممکن ہے پہلے وہ معمولی نظر آئیں مگر بعد میں بڑھتی جائیں اس لئے دنیا کے ہر گوشہ کے احمدی اس کیلئے تیار رہیں اور جب