خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 284

خطبات محمود ۲۸۴ سال ۱۹۳۴ء ان میں سے کئی لوگ مجھے بھی ملے۔ان کے علاوہ ان رپورٹوں کی بناء پر جو مجھے پہنچیں اور جو ان کے ساتھ تعاون کرنے والوں کی طرف سے ہیں، میں ان خیالات کے اظہار پر مجبور ہوا ہوں اور ان حالات میں اگر بعض سے غلطیاں بھی سرزد ہوئیں تو وہ یقیناً نظر انداز کرنے اور بھلا دینے کے قابل ہیں۔یہاں کے مجسٹریٹوں کے متعلق مجھے افسوس ہے کہ میں یہی کلمات نہیں کہہ سکتا حالا نکہ وہ لوگ ہی ہیں جن کے سپرد امن اور انتظام کا قیام ہے۔پولیس تو صرف سوٹے کی طرح ہوتی ہے، دماغ مجسٹریٹ ہوتے ہیں ان کے سامنے ہتک آمیز اور اشتعال انگیز تقریریں ہوئیں، بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت کے دوسرے لیڈروں کے متعلق بہت بد زبانی کی گئی مگر انہوں نے ہرگز نہیں روکا۔مذہبی حملوں کو اگر جانے بھی دیا جائے تو ذاتی حملے اس قدر تھے کہ مجسٹریوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے تھی۔پولیس اور غیر جانب دار رپورٹروں کو بھی اگر نظر انداز کر دیا جائے تو بھی خود ان کے اخباروں میں تقریروں کے جو اقتباس شائع ہوئے ہیں، انہیں دیکھ کر کوئی عظمند یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے اشتعال انگیزی نہیں کی اور مجسٹریٹوں نے اپنے فرض کو ادا کیا ہے۔میں نے خود اخبار احسان یا زمیندار دونوں میں سے کسی ایک میں پڑھا ہے کہ صدر کانفرنس نے کہا کہ لاؤ مجھے اور مرزا بشیر الدین محمود کو ایک کمرے میں بند کر دو اگر صبح تک وہ زندہ رہ جائے تو کہنا۔اور میں سمجھتا ہوں کوئی مجسٹریٹ جس میں شرافت کی کوئی حس باقی ہے، یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اشتعال انگیزی نہیں۔کیا یہ صریح قتل کی دھمکی نہیں؟ کیا یہ الفاظ بھی ان کی سمجھ میں نہیں آسکتے تھے ؟ مگر نہیں ان کے دل خوش تھے کہ احمدیوں کی ہتک کی جارہی ہے اور ان پر الزام لگائے جارہے ہیں۔پھر مجھے حیرت ہے کہ وہی مجسٹریٹ سٹیشن پر یہ کہتا ہوا پایا گیا کہ دونوں فریق میں TOLERANCE (رواداری) نہیں ہے۔گویا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواہ ہمیں مارتے، گالیاں دیتے، پھر بھی ہمیں انہیں اپنے گھروں میں لاکر ٹھہرانا چاہیے تھا اور اپنے مقدس مقامات گرانے کیلئے ان کے حوالہ کر دینے چاہئیں تھے تب ہم اس کے نزدیک روادار کہلا سکتے تھے۔اگر کوئی شخص اس مجسٹریٹ کے منہ پر مکا مارے اور اس کے مکان پر جاکر اس کے ماں باپ کو گالیاں دے تو پھر میں دیکھوں کہ اس میں کتنی رواداری ہے۔حالانکہ یہاں اس کے ذاتی اخلاق کا سوال نہیں تھا، وہ تنخواہ اس بات کی لیتا ہے، ملک معظم کی حکومت کی طرف سے اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ امن قائم رکھے۔اس کا فرض تھا کہ ایسی تقریریں کرنے والوں کو روکتا