خطبات محمود (جلد 15) — Page 183
خطبات محمود IAP سال ۱۹۳۴ء اور کہتا کہ جاؤ اور اس فتنہ کے منانے کیلئے اپنی جانیں تک لڑا دو۔مگر یہاں سوال اپنی عزت اور اپنے نفس کا نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود کی عزت کا سوال ہے۔ہمیں جن لوگوں سے واسطہ پڑا ہے وہ اس قسم کے ہیں کہ دھوکا و فریب کرتے اور پھر بچے بنتے ہیں، ظلم کرتے اور مظلوم بنتے ہیں ، ابتداء کرتے ہیں مگر اپنی کارروائیوں کو مدافعانہ ظاہر کرتے ہیں ان حالات میں ہماری ظاہری کوششوں سے ہر قسم کی سچائی کے باوجود ہمیں بُرا نام ملتا ہے اور ہمیں نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملتا ہے۔پس جو چیز آپ لوگ اپنی ذات کیلئے کرسکتے ہیں میں کہتا ہوں وہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت کی حفاظت کیلئے نہیں کرنی چاہیئے۔ہمارے اعمال تاریخ میں لکھے جائیں گے اس لئے ہمیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔رسول کریم ا نے مدافعانہ جنگیں کیں مگر دنیا چودہ سو سال سے برابر یہ کہتی چلی آرہی ہے کہ مسلمانوں نے تلوار کے زور سے اپنا مذہب پھیلایا یہی ہمارا حال ہے۔ان کے کتنے ہی ظلم او تعدی سے تنگ آکر ہم ان سے لڑیں وہ جھٹ کہہ دیں گے مرزا صاحب کی جماعت ایسی اور آپ کے مرید ایسے ہیں۔پس جو لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہم کیا کریں تب بھی میں انہیں یہی کہوں گا کہ صبر کریں اور اگر وہ تیسری دفعہ میرے پاس آئیں گے تو اُس وقت بھی میرا جواب یہی ہو گا کہ صبر کریں۔ہاں ممکن ہے بعض لوگ میری اس نصیحت پر عمل نہ کر سکیں گو میں اسے ان کی خوبی کہنے کیلئے تیار نہیں بلکہ اسے ان کی کمزوری نفس پر محمول کروں گا لیکن یونکہ کمزور طبائع بھی موجود ہوتی ہیں اور وہ اشتعال انگیزی کے مقابلہ میں پورے صبر سے کام نہیں لے سکتیں، اس لئے میں ان سے یہ کہوں گا کہ اول تو انہیں بھی یہی چاہیے کہ وہ صبر سے کام لیں لیکن اگر کسی وقت وہ مدافعانہ طور پر لڑ پڑتے ہیں تو جہاں پہلا صاد صبر کا تھا وہاں انہیں دوسرا صاد اختیار کرنا پڑے گا جو صدق ہے۔جو کچھ ہوا اُسے مت چھپاؤ بلکہ سچ سچ کہہ دو کہ اصل واقع یہ ہوا ہے۔پس اول تو صبر کرو لیکن اگر کوئی شخص کسی وقت انتہائی طور پر اشتعال دلائے جانے پر صبر نہیں کر سکتا اور سلسلہ کی عزت کی حفاظت کیلئے اپنی کمزوری نفس کے نتیجہ میں لڑ پڑتا ہے تو پھر اسے سچ سچ کہہ دینا چاہیئے۔اس کا فرض ہے کہ دلیری سے کہے میں نے یہ فعل ضرور کیا ہے اور اس لئے کیا ہے کہ فلاں نے سلسلہ کی ہتک کر کے مجھے سخت اشتعال دلایا یا بانی سلسلہ کو گالیاں دیں۔پس اول تو میں یہی کہتا ہوں کہ صبر سے کام لو صبر سے کام لو، صبر سے کام لو لیکن اگر کوئی برداشت نہیں کر سکتا اور لڑ پڑتا ہے تو پھر میں کہوں گا