خطبات محمود (جلد 14) — Page 68
خطبات محمود ۲۸ سال ۱۹۳۳ء ایک بزرگ کے متعلق مشہور ہے وہ مکہ میں مقید تھے۔گرمی کے دن تھے انہیں سخت پیاس لگی انہوں نے دعا کی کہ الہی ! ہماری دعوت کر، تکلیف بہت زیادہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا سن لی بارش ہوئی جس کے ساتھ خوب اولے برسے۔انہوں نے اولوں کو اکٹھا کیا اور پھر انہیں دوستوں میں تقسیم کر دیا۔بعضوں نے پوچھا کہ آپ خود کیوں نہیں کھاتے۔انہوں نے کہا بس یہی خواہش ہے کہ اس خوشی میں کہ اللہ تعالی نے میری دعا قبول کرلی تمام برف دوستوں میں تقسیم کردوں۔تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کئے ہیں۔بجائے اس کے کہ ان گالیوں کو بند کروانے کی کوشش کرو تم اس لڑ پچر کو جمع کرلو۔یہ لٹریچر بذات خود پھر اس بات کا ثبوت ہوگا کہ صداقت کس طرف ہے ایک ایک لفظ ایک ایک گالی جسے اب تم گورنمنٹ کے پاس لے جانا چاہتے ہو تم اسے خدا تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر اپنی فائلوں میں محفوظ کرلو۔یہی وقت ہے جس کے ضائع ہو جانے کا ہمیں افسوس تھا۔خدا تعالیٰ نے یہ موقع پیدا کر دیا ہے اب اس سے فائدہ اُٹھاؤ۔آج دشمن خوش ہے اور وہ گالیاں دے کر خیال کرتا ہے کہ ہم احمدیت کو مٹادیں گے۔لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ اگر مولوی ظفر علی کی اولاد باقی رہی تو آج سے چوتھی پشت کے سامنے "زمیندار" کے یہ گالیوں سے بھرے ہوئے فائل رکھنے پر وہ اپنے دادا کو گالیاں دینے نہ لگ گئے تو جو جی میں آئے کہنا۔یہ گالیاں گالیاں نہیں بلکہ دعائیں ہیں جو تمہیں مل رہی ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے۔میرے ایک بزرگ تھے انہوں نے ایک کام شروع کیا چند دنوں کے بعد فرمانے لگے۔معلوم ہوتا ہے خدا تعالیٰ کو یہ کام پسند نہیں آیا۔آپ نے پوچھا کیوں؟ انہوں نے فرمایا اس لئے کہ کسی نے اس کام کو بُرا نہیں کہا۔پھر کہنے لگے میرا تجربہ ہے کہ جو کام اللہ تعالیٰ کو پسند ہو اُسے عام لوگ ضرور ناپسند کرتے ہیں۔چونکہ اب کسی نے کچھ کہا نہیں۔اس لئے مجھے فکر ہے کہ اللہ تعالی کو یہ کام ناپسند نہ ہو۔چار پانچ دن کے بعد پھر جو ملے تو بڑے خوش تھے۔اور فرمانے لگے اللہ تعالیٰ نے وہ کام قبول کرلیا۔کیونکہ مجھے ایک لمبا خط اس کے متعلق گالیوں کا ملا ہے۔پس تم بھی اپنے نفس کو مولو۔اور اس سے پوچھو اے نفس! کیا تیرے کسی گوشہ میں قرآن کریم کی بے حرمتی ہے۔کیا تیرے کسی گوشہ میں محمد ا کی دشمنی ہے، اے نفس! کیا تیرے اندر بنی نوع انسان کی دشمنی اگر تمہارا نفس ان تمام سوالوں کے جواب میں کہے کہ نہیں نہیں۔میں سب کچھ دین کیلئے قربان کرنے کو تیار ہوں۔محمد ﷺ سے دشمنی کیسی، آپ کے ادنی اشارے پر جان