خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 43

خطبات محمود سم لهم سال ۱۹۳۳ء تبلیغی جدوجہد کے ساتھ دُعائیں بھی کرو فرموده ۱۰ - مارچ ۱۹۳۳ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- اس ہفتہ میں ہمارے دوسرے نیوم التبلیغ کی تاریخ تھی اور جو رپورٹیں باہر سے آئی ہیں اور جو کام اس جگہ ہوا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک بھی اللہ تعالیٰ کے فضل - بہت کچھ برکت کے سامان اپنے اندر رکھتی ہے اور اس کے نتیجہ میں دنیا کی اصلاح کی بہت کچھ امید کی جاسکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام اللہ تعالیٰ کے کلام میں جَرِيٌّ اللهِ حُلل الانبياء لے رکھا گیا ہے۔یعنی وہ اللہ تعالی کا بہادر جرنیل جو تمام انبیاء کے لباس پہن کر آیا ہے۔ہر نبی کا خلعت وہ خلعت جو حضرت موسیٰ کو دیا گیا، وہ خلعت جو حضرت عیسی" کو دیا گیا وہ خلعت جو حضرت کرشن ، حضرت رام چندر ، حضرت بدھ ، حضرت زرتشت کو دیا گیا غرض کہ جو کسی بھی ملک اور کسی بھی قوم کے نبی یا اوتار کو دیا گیا وہ سارے کے سارے جمع کرکے اللہ تعالٰی نے اپنے اس جرنیل کو پہنا دیئے ہیں۔یہ کوئی معمولی الہام نہیں ، کوئی معمولی دعوی نہیں۔حُلل سے مراد اور خلعتوں کے معنی وہ کپڑوں کا لباس نہیں جو انبیاء اپنے اپنے زمانوں میں پہنتے تھے۔یہ معنے تو بالبداہت غلط ہیں۔حُلل سے مراد یقیناً وہی لباس ہیں جو اللہ تعالٰی نے ان کو پہنائے تھے۔یعنی تقویٰ کا لباس مراد ہے، جسے قرآن کریم نے حقیقی لباس قرار دیا ہے۔یا وہ انعامات الہی کا لباس مراد ہے جو کہ ان کی ترقیات کا معیار ہوتا ہے۔اس کے ذریعہ انسان کے مدارج کو پہچانا جاتا ہے۔اور