خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 23

سال ۱۹۳۳ء خطبات محمود ۲۳ رحم اور عفو وسیع مضامین ہیں۔خطبہ کی کوتاہی اس کے ایک حصہ کے بیان کرنے سے بھی قاصر ہے اور میں اس کے ایک حصہ کی مثال کو بھی بیان نہیں کر سکتا۔کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔بہر حال میں بتانا چاہتا ہوں کہ توبہ ، رحم اور عفو کو مضحکہ مت بناؤ اس سے گناہوں پر دلیری اور جرات پیدا ہو جاتی ہے۔اگر انسان یہ سمجھ لے کہ میرا جو جی چاہے کرلوں بعد میں کہہ دوں گا۔معاف کردو تو نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ جُرم کی عظمت جاتی رہے گی اور قلبی سوزش جو گناہ کے بعد پیدا ہونی چاہیئے، وہ پیدا نہیں ہوگی۔مومن کے دل میں سوزش اور قلبی موت دونوں ہی حالتوں میں پیدا ہوتی ہے۔اُس وقت جب وہ گناہ کرتا ہے اور اُس وقت بھی جب وہ گناہ نہیں کرتا۔اور در حقیقت وہ قلبی موت نہیں جاتی جب تک آسمان سے اس پر زندگی کا پانی نہ چھڑ کا جائے اور جب تک خدا اسے آپ موت سے نہ بچائے۔یا پھر یہ کہ اس پر جسمانی موت وارد ہو جائے یہ دونوں موقعے ایسے ہیں جبکہ مومن زندہ ہو جاتا ہے۔اس وقت بھی جب فرشتے اس کی جان نکالتے ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مرگیا ہے اور اس وقت بھی جب کہ خدا کے فرشتے اس پر زندگی کا پانی چھڑکیں اور وہ نازل ہو کر کہیں کہ ہم نے تجھے زندہ کر دیا۔اب اگر تو اپنے آپ کو مُردہ سمجھے گا تو یہ خدا پر بدظنی ہوگی۔مومن سے جب گناہ سرزد ہوتا ہے تو پھر گناہ کی سوزش اسے زندہ کرتی ہے اور جب وہ گناہ نہیں کر رہا ہوتا اُس وقت وہ گناہوں کی عظمت اور اپنی کمزوری سے غافل نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں ہر وقت گناہ کے کنارے کھڑا ہوں۔کبھی میں سمجھتا ہوں خدا کے کئی گناہگار اور خطا کار بندے ایسے ہوں گے کہ وہ بھی اس بات کیلئے تیار ہو جائیں گے کہ خدا تعالی بیشک ہمیں دوزخ میں ڈال دے مگر وہ ہم سے ناراض نہ مت سمجھو کہ کوئی دوزخی اپنے قلب میں خدا کی محبت نہیں رکھتا۔کئی ایک انسانوں کے ہو۔یہ دلوں میں نیکی کا بیج ہوتا ہے مگر اسے بڑھنے کا موقع نہیں ملتا۔آتا ہے کہ کوئی شخص تھا بڑا گناہ گار اُس کا ایک بیٹا بھی تھا جو سخت نافرمان تھا اُس نے نیکی کبھی نہیں کی تھی اور نہ باپ کی فرمانبرداری کی تھی۔دونوں باپ بیٹے کے مرنے پر حکم ہوا کہ باپ اور بیٹا دونوں کو دوزخ میں ڈال دیا جائے۔اُس وقت وہ بیٹا جس نے کبھی باپ کی فرمانبرداری نہیں کی تھی عاجزانہ طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور گر گیا اور کہنے لگا خدایا۔مجھے آج تک موقع نہیں ملا کہ میں اپنے باپ کی فرمانبرداری کروں یا اس کے ساتھ کوئی حسن سلوک کروں میں تیرے حضور دعا