خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 260

خطبات محمود وہ ۲۶۰ سال ۱۹۳۳ء غفلت ہی ان کی چستی کا باعث بن سکتی ہے۔مثلاً یہی یوم التبلیغ ہے ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ اس دن تبلیغ کیلئے نہ جائیں۔مگر ان کی وجہ سے کونسی ایسی برکتیں نازل ہوئی تھیں کہ ان کے ذریعہ ہزاروں لوگ احمدی ہو جاتے۔ایسا منحوس شخص جو ایک دن بھی تبلیغ کیلئے نہیں نکلا سکتا، وہ اگر مجبور کرنے پر نکلے بھی تو اس کی زبان میں کیا اثر ہو سکتا ہے۔جس کے سپرد اتنا بڑا کام ہو کہ اس نے مسیح موعود کا پیغام دوسروں کو پہنچانا ہو، اس مسیح موعود کا جسے گزشتہ انبیاء نے سلام کہا۔وہ اگر اپنے فرض کو نہ پہچانے اور تبلیغ کیلئے نہ جائے تو کون سی ایسی برکت ہو سکتی ہے کہ ایسے لوگوں کے تبلیغ کیلئے نکلتے ہی خدا تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے دے کہ یہ بڑے بابرکت لوگ ہیں۔اب تم برکت نازل کرنی شروع کردو۔ایسے لوگ نہ نکلیں تو کیا حرج واقعہ ہو سکتا ہے۔لیکن جو اخلاص کے ساتھ جانے والے ہوتے ہیں۔میری طرف سے تحریک ہونے پر ان کا اخلاص بھی دب جاتا ہے۔پھر اس بات میں کیا فرق رہا کہ کوئی زور دینے کی وجہ سے گیا یا خوشی سے گیا۔منافق وہ نہیں ہوتا جس میں ایمان نہ ہو بلکہ وہ ہوتا ہے جس میں نامکمل ایمان ہوتا ہے۔اور نامکمل ایمان بھی بات سننے اور عمل کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔اور میرے کہنے پر ایسے لوگوں کو بھی کچھ نہ کچھ حصہ لینا پڑتا ہے۔حالانکہ اگر وہ تبلیغ نہ کرتے اور جب مخلص آکر حالات بناتے کہ ہمیں لوگوں نے مارا، گالیاں دیں، تکالیف پہنچائیں اور سب کچھ ہم نے خدا تعالیٰ کیلئے برداشت کیا تو منافقوں کو اپنا نفاق دور کرنے کا موقع مل جاتا۔اور دوسری دفعہ وہ خدا تعالی کی رضا حاصل کرنے کیلئے خود بخود تبلیغ کیلئے جاتے مگر اب یہ نہ ہو سکے گا۔جاتی آئندہ کارکنوں کو خواہ وہ مقامی ہوں یا بیرونی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہر تحریک میں اتنی شدت نہ پیدا کی جائے کہ لوگوں کو اس کی عادت ہو جائے۔شدید نیکی بھی عادت بن ہے اور شدید بُرائی بھی۔چند دن اگر کوئی شخص شدید خشوع و خضوع پیدا کرے تو پھر یہ اس کی عادت بن جائے گی۔شدید زہر کی بھی عادت پڑ جاتی ہے۔دیکھو گو بھی کھانے والے کو اس کی عادت نہیں پڑتی وجہ یہ کہ اس میں شدت نہیں ہوتی۔لیکن افیم کھانے والے کو عادت ہوتی ہے۔کیونکہ افیم میں ایک قسم کی شدت ہوتی ہے۔انبیاء اور خدا تعالیٰ کا قول بھی شدت والا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالی روز روز الهام نازل نہیں کیا کرتا کیونکہ اس کی بھی عادت ہو جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ تحریر فرمایا ہے کہ: